سرحد پار حملے اور شدت پسندی کے خطرات بڑھ گئے، طالبان دہشتگردوں کی حمایت میں ملوث۔ عالمی میڈیا رپورٹ

سرحد پار حملے اور شدت پسندی کے خطرات بڑھ گئے، طالبان دہشتگردوں کی حمایت میں ملوث۔ عالمی میڈیا رپورٹ

افغانستان میں طالبان رجیم کی سرپرستی میں القاعدہ اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں نے خطے کے امن کے لیے شدید خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ امریکی جریدے جسٹ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، طالبان حکومت کی مکمل حمایت سے القاعدہ افغانستان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس نے اپنی محفوظ پناہ گاہیں بھی قائم کر رکھی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان اور القاعدہ ایک دوسرے کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں اور طالبان رجیم نے القاعدہ سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کو تربیت دینے کے لیے افغان سرزمین کو ایک محفوظ مرکز بنایا ہوا ہے۔ ان تربیتی کیمپوں میں دہشتگردوں کو جدید ہتھیاروں، حکمت عملی اور شدت پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں خطے کے دیگر ممالک بھی سرحد پار حملوں اور بڑھتی ہوئی شدت پسندی سے متاثر ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ڈپلومیٹک پاسپورٹ کا غلط استعمال، سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر کے وارنٹ گرفتاری جاری

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کے زیر تسلط افغانستان اب دہشتگرد تنظیموں کی ایک آماجگاہ بن چکا ہے، جو صرف افغانستان تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک نے عالمی برادری کو افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور ان کے ممکنہ خطرات کے بارے میں بارہا آگاہ کیا ہے۔

عالمی جریدے کے مطابق، افغانستان میں طالبان کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد گروہ اپنی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جو نہ صرف افغان سرزمین بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ دفاعی ماہرین نے زور دیا کہ دنیا کو ان دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طالبان کے زیر سرپرستی دہشتگرد نیٹ ورک کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال خطے میں مزید عدم استحکام اور دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سبب بن سکتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *