جانی خیل میں فتنہ الخوارج کا لرزہ خیز جرم، بے گناہ شہری کی گردن کاٹ لاش سڑک پر پھینک دی

جانی خیل میں فتنہ الخوارج کا لرزہ خیز جرم، بے گناہ شہری کی گردن کاٹ لاش سڑک پر پھینک دی

 

ضلع بنوں کی تحصیل جانی خیل میں شدت پسند عناصر کی سفاکیت ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی، جہاں ’فتنہ الخوارج‘ سے وابستہ افراد نے جاسوسی کا الزام لگا کر ایک بے گناہ شہری کو اغوا کیا پھر اس کی گردن کاٹ کر لاش سڑک پر پھینک دی۔

مقامی ذرائع کے مطابق جانی خیل کے علاقے ہندی خیل میں اشرف نامی شہری کو اغوا کیا گیا اور بعد ازاں اس کی گردن کاٹ کر لاش سڑک کنارے پھینک دی گئی۔ واقعے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے جبکہ لواحقین شدید صدمے سے دوچار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے متعلق سہیل آفریدی کا بیانیہ ایک بار پھر مسترد ، ثمر بلور نے حقائق سامنے رکھ دیے

یاد رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ برس بھی مقتول کے بھائی عثمان کو اسی نوعیت کے حملے میں جان سے محروم کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل ہندی خیل ہی کے رہائشی فخرالدین کو مبینہ طور پر اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کا بازو توڑ دیا گیا تھا۔ ان مسلسل واقعات نے علاقے کے امن و امان پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں گشت اورانٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کو جلد گرفتار کرنے کیلئے مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی مذہب یا نظریے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ علماء اور عمائدین علاقہ نے بھی اس سفاک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں قیام امن کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

دوسری جانب بعض سیاسی و سماجی شخصیات کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب بھی عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس پر یکساں آواز بلند ہونی چاہیے تاکہ دہشت گردی کے خلاف واضح پیغام دیا جا سکے۔

مقامی مشران نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شرپسند عناصر کی نشاندہی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دیں اور اپنے علاقوں میں مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جانی خیل اور گرد و نواح میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب پوری برادری متحد ہو کر دہشتگردی کے خلاف کھڑی ہو۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *