حکومت نے وزیراعظم الیکٹرک موٹر سائیکل اسکیم کے تحت سستی الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر دی جانے والی سبسڈی کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر حماد منصور نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت آئندہ پانچ برس کے دوران اس اسکیم کے لیے 100 ارب روپے مختص کر رہی ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے 9 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
ان کے مطابق موجودہ سال میں ایک لاکھ 16 ہزار برقی موٹر سائیکلوں پر فی موٹر سائیکل 80 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی، اسی طرح برقی رکشہ اسکیم کے تحت ہر رکشے پر 4 لاکھ روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ شہریوں کو کم لاگت سفری سہولت میسر آ سکے اور ایندھن پر انحصار کم ہو۔
سی ای او نے کہا کہ وزیراعظم ای وی بائیکس کی قیمت دیگر برانڈز کے مقابلے میں 50 سے 60 ہزار روپے تک کم رکھی گئی ہے، منصوبے کے تحت جون تک 76 ہزار موٹر سائیکلیں فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی تعداد مرحلہ وار فراہم کی جائے گی۔
اہلیت کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسکیم سے وہ افراد فائدہ اٹھا سکیں گے جن کی عمر 18 برس یا اس سے زیادہ ہو اور ان کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس موجود ہو درخواست اور قرعہ اندازی سمیت تمام مراحل خودکار نظام کے تحت مکمل کیے جائیں گے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ برقی موٹر سائیکلوں کے فروغ سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی بلکہ صارفین کو ماہانہ پٹرول کی مد میں تقریباً 8 ہزار روپے تک بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس اقدام سے مقامی صنعت کو بھی فروغ ملے گا اور شہریوں کے لیے کم خرچ سفری متبادل دستیاب ہوگا۔