جنوبی کوریا نے دنیا کا پہلا انسان نما راہب روبوٹ متعارف کرا دیا

جنوبی کوریا نے دنیا کا پہلا انسان نما راہب روبوٹ متعارف کرا دیا

جنوبی کوریا نے جدید ٹیکنالوجی اور مذہبی روایات کو یکجا کرتے ہوئے دنیا کا پہلا انسان نما راہب روبوٹ متعارف کرا دیا، جس نے بدھا کے یوم پیدائش کی تقریبات سے قبل سیئول کے تاریخی جوگی مندر میں باقاعدہ راہب کے طور پر شرکت کر کے سب کو حیران کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منفرد روبوٹ کا نام ’گابی‘ رکھا گیا ہے، جو تقریباً 130 سینٹی میٹر لمبا انسان نما روبوٹ ہے۔ گابی نے بدھ مت کے روایتی سرمئی اور بھورے رنگ کے لباس زیب تن کیے اور تقریب کے دوران دیگر راہبوں کے ساتھ موجود رہا۔ اس موقع پر روبوٹ نے رسمی انداز میں خود کو بدھ مت کی تعلیمات اور روحانی خدمت کے لیے وقف کرنے کا عہد بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستانی یوٹیوبرز کی عالمی کامیابی، ڈیجیٹل مواد کی دنیا میں نئی پیش رفت

تقریب میں شریک افراد گابی کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے، کیونکہ روبوٹ نہ صرف انسانی انداز میں کھڑا تھا بلکہ اس کی حرکات اور انداز بھی کسی حقیقی راہب سے ملتے جلتے تھے۔ منتظمین کے مطابق اس روبوٹ کا مقصد مذہبی تقریبات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا اور نوجوان نسل کو بدھ مت کی تعلیمات سے جوڑنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ریڈمی کی اسکرین اور طویل بیٹری لائف کے ساتھ نئی اسمارٹ واچ متعارف

جنوبی کوریا پہلے ہی روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے، تاہم مذہبی سرگرمیوں میں انسان نما روبوٹ کی شمولیت ایک منفرد اور غیر معمولی قدم سمجھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی گابی کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جہاں صارفین اسے “فیوچر کا راہب” اور “روبوٹ مونک” قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسے انسان نما روبوٹس نہ صرف مذہبی تقریبات بلکہ تعلیم، سیاحت اور سماجی سرگرمیوں میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم کچھ حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا روحانی اور مذہبی معاملات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال روایتی اقدار کو متاثر کرے گا یا نہیں۔

editor

Related Articles