ٹرمپ کی ایران پالیسی پر سیاسی ہنگامہ، امریکی سینیٹ میں دفاعی بل منظور نہ ہو سکا

ٹرمپ کی ایران پالیسی پر سیاسی ہنگامہ، امریکی سینیٹ میں دفاعی بل منظور نہ ہو سکا

ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور حالیہ کشیدگی کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں جس کے باعث امریکی سینیٹ میں سالانہ دفاعی پالیسی بل پر پیش رفت رک گئی۔ ڈیموکریٹک اراکین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق حکمتِ عملی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے بل پر مزید کارروائی کی مخالفت کی۔

امریکی سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران بل کو مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ بل کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 46 ووٹ آئے تاہم اسے بحث اور اگلے مرحلے تک لے جانے کے لیے 60 ووٹ درکار تھے جس کے باعث بل منظور نہ ہو سکا۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی سینیٹ میں ایران جنگ سےمتعلق اہم قراردار منظور 

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک ٹریلین ڈالر سے زائد مالیت کے دفاعی بجٹ اور پالیسی پر مشتمل اس بل میں امریکی فوج کی استعداد بڑھانے کے علاوہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی متعدد شقیں شامل تھیں۔

بل کے مطابق پینٹاگون امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور عسکری تعاون کو مربوط بنانے کے لیے ایک خصوصی اہلکار مقرر کرے گا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک اسلحے کی تحقیق، تیاری اور جدید دفاعی نظام کی مشترکہ ترقی پر بھی کام کریں گے، جبکہ بعض دفاعی ٹیکنالوجیز کو ایک دوسرے کے فوجی نظام کے ساتھ مربوط کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔

ڈیموکریٹس نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے وقت میں جب ایران کے حوالے سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں، کانگریس کو کسی ایسے دفاعی بل کی منظوری نہیں دینی چاہیے جو انتظامیہ کے فوجی اختیارات کو مزید تقویت دے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی ناکہ بندی کے بعد ایران کی بحری تجارت شدید متاثر ہوئی ،سینٹکام

سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے قائد چک شومر نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس بل کی منظوری کا مطلب صدر ٹرمپ کو ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں کے لیے کانگریس کی مؤثر نگرانی کے بغیر مزید اختیار دینا ہوگا، جو جمہوری اصولوں اور آئینی نگرانی کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

editor

Related Articles