پمز اسپتال نرسری میں آتشزدگی کا سانحہ، ریسکیو ذرائع کے سنسنی انکشافات سامنے آگئے

پمز اسپتال نرسری میں آتشزدگی کا سانحہ، ریسکیو ذرائع کے سنسنی انکشافات سامنے آگئے

اسلام آباد کے پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہونے کے واقعات پر ریسکیو ذرائع نے اسپتال میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات، عملے کی عدم موجودگی اور ہنگامی راستوں پر تالے لگے ہونے کے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ حکام نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر 24 گھنٹے کے اندر تحریری تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

فائر سیفٹی انتظامات کا پول کھل گیا

ریسکیو ذرائع کے مطابق پمز اسپتال میں آگ بجھانے کے لیے نصب فائر سیفٹی انتظامات انتہائی ناقص اور ناکارہ ثابت ہوئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ہنگامی صورتحال کے دوران جب فائر بریگیڈ اور ریسکیو اہلکاروں نے کارروائی شروع کی تو معلوم ہوا کہ فائر ہوز میں کپلنگز موجود ہی نہیں تھے جبکہ فائر پوائنٹ پر پانی کا قطرہ تک دستیاب نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر اعظم شہبازشریف نے پمز اسپتال واقعہ کا نوٹس لے لیا

اس سے بھی زیادہ دلخراش بات یہ سامنے آئی کہ آگ اور دھوئیں سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے ہنگامی انخلا کے دروازوں کو تالے لگے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بچوں کو بروقت باہر نکالنا ناممکن ہو گیا۔

عملے کی مجرمانہ غفلت اور غیر حاضری

ریسکیو حکام نے اسپتال انتظامیہ اور ڈیوٹی عملے کی سخت غفلت کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حادثے کے وقت انکوبیشن سینٹر میں کوئی ڈاکٹر، وارڈ بوائے یا طبی عملہ موجود ہی نہیں تھا۔

نرسری میں آگ لگنے کے بعد جب معصوم بچے دھوئیں اور لپٹوں میں گھِرے ہوئے تھے، تو انہیں بچانے کے لیے موقع پر کوئی ذمہ دار شخص موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے دم گھٹنے اور شدید جھلسنے سے 14 نو زائیدہ بچے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

انکوائری کمیٹی کا قیام اور 24 گھنٹے کا الٹی میٹم

حادثے کی خبر پھیلتے ہی حکومتی و انتظامی سطح پر شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اعلیٰ حکام نے اس مجرمانہ غفلت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔

 کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حادثے کے تمام محرکات، فائر سیفٹی کی عدم موجودگی اور عملے کی غفلت کا باریک بینی سے جائزہ لے کر 24 گھنٹے کے اندر اپنی حتمی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرائے تاکہ ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی و محکمانہ کارروائی کی جا سکے۔

پمز اسپتال دارالحکومت کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال ہے جہاں روزانہ ہزاروں غریب اور متوسط طبقے کے افراد علاج کی غرض سے رجوع کرتے ہیں۔

تاہم سرکاری اسپتالوں کے شعبہ نرسری اور این آئی سی یو میں فائر سیفٹی آڈٹ کی عدم موجودگی، بجلی کے نظام کی ابتر حالت اور حفاظتی آلات کے غیر فعال ہونے کی شکایات طویل عرصے سے چلی آ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی، 15 نومولود جاں بحق اور متعدد جھلس گئے

ہنگامی انخلا کے راستوں پر تالے لگانا اور شفٹوں کے دوران عملے کا ڈیوٹی سے غائب رہنا ایک ایسا دائمی مسئلہ ہے جو ماضی میں بھی کئی ہولناک حادثات کا سبب بن چکا ہے۔

پمز اسپتال کا یہ سانحہ محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ انتظامی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا وہ لرزہ خیز نمونہ ہے جس نے 14 معصوم بچوں کی جانیں نگل لیں۔

فائر پوائنٹس پر پانی نہ ہونا، آلات کے کپلنگز غائب ہونا اور سب سے بڑھ کر ایمرجنسی ایگزٹ پر تالے جڑے ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اسپتال انتظامیہ سیفٹی ایس او پیز کو نذرِ آتش کر چکی تھی۔

حادثے کے وقت طبی عملے کا غائب ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ اسپتال میں نگرانی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔

محض 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ جب تک اس سانحے کے تمام انتظامی ذمہ داران کو نشانِ عبرت نہیں بنایا جاتا اور ملک بھر کے اسپتالوں کے فائر سیفٹی سسٹم کا ایمرجنسی آڈٹ نہیں ہوتا، تب تک ایسے دلخراش واقعات کی روکتھام ممکن نہیں ہو سکے گی۔

Related Articles