ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل گراوٹ نے نئی تاریخ رقم کردی، امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قیمت پہلی بار 20 لاکھ ریال کی حد بھی عبور کرگئی ، وپن مارکیٹ میں ایک ڈالر 20 لاکھ 20 ہزار ریال تک پہنچنے کے بعد ایران کی پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت پر دباؤ مزید نمایاں ہوگیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی کرنسی کی قدر میں حالیہ دنوں کے دوران تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے، مارچ کے آغاز میں ایک امریکی ڈالر تقریباً 15 لاکھ 30 ہزار ایرانی ریال کے برابر تھا، تاہم اب ڈالر کی قیمت 20 لاکھ ریال سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔
ایرانی کرنسی کی قدر میں یہ نمایاں کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور عالمی پابندیوں کا سامنا ہے، امریکی دباؤ میں اضافے کے باعث ایران کی معیشت کیلئے مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی ریال خریدنے والوں کیلئے بری خبر ، پاکستانی روپے کے مقابلے میں قدر میں نمایاں کمی
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر مالی دباؤ بڑھانے کی بات کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ واشنگٹن تہران کے خلاف سخت اقتصادی اقدامات کی جانب بڑھ رہا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران کی مدد کرنے والے ممالک کو ممکنہ اقتصادی نتائج سے خبردار کرچکے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی کے مطابق امریکی پابندیوں اور جنگی صورتحال نے ملک کی تیل برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
ایران پہلے ہی مہنگائی، توانائی کی قلت، تجارتی رکاوٹوں اور کمزور کرنسی جیسے مسائل کا شکار ہے ایسے میں موجودہ صورتحال نے ملکی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی سے درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھنے اور عام شہریوں کی قوت خرید متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
آنے والے دنوں میں ریال کی قدر کا رخ ایران کی تیل برآمدات، عالمی پابندیوں، جنگی صورتحال اور امریکی دباؤ میں ہونے والی تبدیلیوں سے منسلک رہے گا۔