اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کے نرسری وارڈ میں صبح سویرے آگ لگنے کے دلخراش واقعے میں 15 نومولود بچے جاں بحق اور متعدد شدید جھلس گئے ہیں۔
ریسکیو حکام اور اسپتال ذرائع کے مطابق آگ پر قابو پا کر کولنگ کا عمل جاری ہے، جبکہ حادثے کی بنیادی وجہ شارٹ سرکٹ یا ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنا بتائی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے چند ہی لمحوں میں پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے اس خوفناک واقعے میں 15 نومولود بچے دم گھٹنے اور شدید جھلسنے کے باعث جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد بچے زخمی حالت میں دوسرے وارڈز میں منتقل کیے گئے ہیں۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا، جس کے بعد متاثرہ وارڈ میں کولنگ کا عمل شروع کر دیا گیا۔
واقعے کا وقت اور ابتدائی وجوہات میں تضاد
حادثے کے وقت اور وجوہات کے حوالے سے ابتدائی اطلاعات میں واضح تضاد پایا جا رہا ہے۔ ریسکیو ذرائع کی جانب سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ آگ صبح 6:45 بجے کے قریب لگی، جبکہ ریسکیو حکام کے دیگر بیانات میں حادثے کا وقت صبح 7:00 بجے بتایا جا رہا ہے۔
اسی طرح اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ گائنی وارڈ میں ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر دھماکے سے پھٹنے کی وجہ سے لگی، جبکہ ابتدائی انتظامی اطلاعات میں شارٹ سرکٹ کو آتشزدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
اسپتال ذرائع کے انکشافات اور امدادی کاوشیں
اسپتال کے اندرونی ذرائع کے مطابق جس وقت وارڈ میں آگ لگی تو وہاں شدید دھواں بھر گیا اور افرا تفری مچ گئی۔ اس المناک صورتحال کے دوران ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر نے اپنی مدد آپ کے تحت کوشش کرتے ہوئے صرف 1 بچے کو بحفاظت باہر نکالنے میں کامیابی حاصل کی، جبکہ دیگر بچوں کو نکالنے کا موقع نہ مل سکا۔
ابتدا میں ریسکیو حکام نے 4 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی، تاہم بعد میں اسپتال ذرائع نے تصدیق کی کہ جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کی کل تعداد بڑھ کر 15 ہو چکی ہے۔
پمز اسپتال اسلام آباد کا مرکزی اور سب سے مصروف ترین سرکاری اسپتال ہے جہاں روزانہ ہزاروں مریض اور نو زائیدہ بچے زیرِ علاج رہتے ہیں۔
پمز اسپتال جیسے حساس اور اہم ترین میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں اتنا بڑا سانحہ انتظامی غفلت اور ناکافی سیفٹی سسٹمز کو بے نقاب کرتا ہے۔
15 معصوم بچوں کی المناک موت محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ عمارت میں برقی وائرنگ اور اے سی سسٹمز کی بروقت دیکھ بھال نہ ہونے کا نتیجہ نظر آتا ہے۔
واقعے کے وقت اور وجوہات کے بارے میں سامنے آنے والے متضاد بیانات سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ ادارے کے اندر فوری طور پر حقائق کو واضح کرنے میں ہچکچاہٹ موجود ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، غفلت کے مرتکب عملے کا تعین کیا جائے اور ملک بھر کے تمام اسپتالوں کے شعبہ بچوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے تاکہ آیندہ ایسے دلخراش سانحات کا سدِ باب ہو سکے۔