آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی امیدوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد کمی ہوگئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں کو اس اہم آبی گزرگاہ کے کھلنے کی امید پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں آج (بدھ) خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ کمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر کی توجہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مرکوز ہے، اس راستے سے جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی، اس لیے یہاں کشیدگی کم ہونے کی کوئی بھی خبر عالمی توانائی مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہے۔
برینٹ اور امریکی خام تیل کی قیمت کتنی کم ؟
بدھ کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدے کی قیمت 1.78 ڈالر، یعنی 2 فیصد کمی کے بعد 86.80 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 1.49 ڈالر، یعنی 1.8 فیصد کمی کے ساتھ 80.87 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ دونوں بینچ مارک قیمتوں میں منگل کو بھی 3 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
فوجیتومی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار میتسورو مورائیشی کے مطابق مارکیٹ اب بھی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق پیش رفت پر ردعمل دے رہی ہے، ان کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی امید نے تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔
آبنائے ہرمز میں کیا پیشرفت ہوئی؟
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے کئی ہفتوں سے وقفے وقفے سے مذاکرات جاری ہیں ، دونوں ممالک نے منگل کو بتایا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایک عارضی مشترکہ بحری راہداری پر بات چیت کی ہے۔
اس کے علاوہ آبنائے کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، اگر اس حوالے سے عملی پیش رفت ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی رسد سے متعلق خدشات کم ہوسکتے ہیں۔
تاہم صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی ہے کیونکہ منگل کو عمان کے شہر اش شیصہ کے قریب آبنائے ہرمز کے داخلی راستے سے تقریباً 9 بحری میل دور ایک آئل ٹینکر نامعلوم سمت سے آنے والے ایک پروجیکٹائل کی زد میں آیا، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا اور اسے سفر سے روک دیا گیا۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے واقعے کی اطلاع دی۔
امریکا کا اہم اقدام
دوسری جانب امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بعض سفارتی مشنز کے لیے عملہ واپس بھیجنا شروع کردیا ہے، یہ وہ عملہ ہے جسے ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران خالی یا محدود کردیا گیا تھا۔
اس پیشرفت سے عندیہ ملتا ہے کہ واشنگٹن کو مستقبل قریب میں ایران کے ساتھ تنازع مزید بڑھنے کا خطرہ نسبتاً کم محسوس ہورہا ہے تاہم بعض سفارت خانے ابتدا میں محدود عملے کے ساتھ کام کریں گے۔
اس کے باوجود امریکا نے پیر کو ایران پر مزید پابندیاں بھی عائد کی ہیں اور ان پابندیوں کا مقصد تہران کی اقتصادی آمدنی کے اہم ذرائع کو محدود کرنا ہے ، واشنگٹن نے ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے والے ممالک کو بھی کارروائی کی دھمکی دی ہے تاہم فوری طور پر جرمانے عائد نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
امریکی تیل ذخائر بھی توجہ کا مرکز
عالمی تیل مارکیٹ میں امریکی ذخائر کے اعداد و شمار بھی اہمیت اختیار کرگئے ہیں ، امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) کے مطابق 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 42 لاکھ بیرل اضافہ ہوا۔
رائٹرز کے سروے میں ماہرین نے اوسطاً صرف 6 لاکھ بیرل اضافے کی توقع ظاہر کی تھی ، یوں اصل اعداد و شمار توقعات سے کہیں زیادہ رہے۔
تیل سستا ہونے کا اثرات کتنے دیرپا؟
خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ سے آگے بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں، بالخصوص وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں، انہیں قیمتوں میں کمی سے کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔
تاہم فی الحال آبنائے ہرمز کی صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی، ایک طرف مذاکرات اور عارضی بحری راہداری کی امید عالمی منڈی کو حوصلہ دے رہی ہے، تو دوسری جانب ایران پر امریکی پابندیاں خطرات برقرار رہنے کی نشاندہی کرتی ہیں۔