پاکستان نے ناگہانی آفات اور اضطراری حالات کے دوران قوتِ سماعت سے محروم افراد کو بروقت معلومات اور خبردار کرنے کے لیے ارٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی مترجم ‘صلہ’ متعارف کروا دیا ہے۔
یہ جدید ٹیکنالوجی برطانیہ کے تعاون اور مقامی اداروں کی شراکت داری سے تیار کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد ہنگامی بنیادوں پر تمام شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے۔
برطانوی ہائی کمشنر کے مطابق برطانیہ نے ‘سونو ٹیک’ نامی منصوبے کی مکمل حمایت کی ہے، جو کہ تمام شہریوں بشمول سماعت سے محروم یا اونچا سننے والے افراد کے لیے ایک جامع اور ہمہ گیر ابتدائی تنبیہی نظام ہے۔
اس منصوبے کے تحت آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ایک خاص مترجم ‘صلہ’ تیار کیا گیا ہے، جو ہنگامی حالات کے دوران فوری پیغامات کو سماعت سے محروم افراد تک ان کی قابلِ فہم زبان میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تیکنیکی شراکت دار اور عملی مظاہرہ
اس جدید اور انقلابی نظام کو ٹیکنالوجی کمپنی ’کنیکٹ ہیئر‘ نے ’جی ایس ایم اے پاکستان‘ اور ‘یو فون’ کے تعاون و اشتراک سے تیار کیا ہے۔
منصوبے کی افتتاحی سرگرمیوں کے سلسلے میں برطانوی نمائندے نے سماعت سے محروم بچوں کے ایک تعلیمی ادارے کا دورہ بھی کیا۔
اس موقع پر انہوں نے اے آئی مترجم ‘صلہ’ کے عملی استعمال کا مظاہرہ کیا اور وہاں موجود طلبہ و طالبات سے اس جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کا طریقہ کار بھی سیکھا۔
ایمرجنسی اور قدرتی آفات سے تحفظ
اس منصوبے کا بنیادی مقصد قوتِ سماعت سے محروم اور سست روی سے سننے والے تمام افراد کو ایمرجنسی، قدرتی آفات اور دیگر پیش آنے والے خطرات کے بارے میں بروقت اور آسان فہم معلومات فراہم کرنا ہے۔
اس نظام کے ذریعے یہ افراد کسی بھی ناگہانی صورتحال میں بروقت حفاظتی تدابیر اختیار کر سکیں گے، جس سے ان کی جانی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
عام طور پر قدرتی آفات يا اضطراری حالات کے موقع پر جاری کی جانے والی سرکاری اور اضطراری تنبیہات صوتی یا روایتی ذرائع پر مبنی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد اکثر معلومات تک بروقت رسائی سے محروم رہ جاتے تھے۔
اس مواصلاتی خلا کو پر کرنے اور تمام شہریوں کی یکساں حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ‘سونو ٹیک’ کا خاکہ مرتب کیا گیا تاکہ جدید ارٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ایسا جامع اور محفوظ نظام قائم کیا جا سکے جس میں سماج کے کسی بھی طبقے کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی مترجم ‘صلہ’ کا آغاز پاکستان میں معذور افراد کے حقوق اور ان کی حفاظت کی سمت میں ایک انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت ہے۔
ایمرجنسی مواصلات میں اے آئی اور اشاروں کی زبان کا استعمال انسانی زندگیوں، بالخصوص غریب اور معذور طبقے کے تحفظ میں انقلاب آفریں ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، برطانیہ کی معاونت اور ‘کنیکٹ ہیئر’، ‘جی ایس ایم اے’ اور ‘یو فون’ جیسی تکنیکی اور مواصلاتی کمپنیوں کا باہمی اشتراک یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر نجی و سرکاری ادارے اور بین الاقوامی ادارے مل کر کام کریں تو ٹیکنالوجی کا درست استعمال کر کے معاشرے کی سب سے نازک حالت میں موجود برادریوں کو درپیش خطرات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔