اسلام آباد کے پمز اسپتال کے ایم سی ایچ وارڈ میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے کی تحقیقات کے لیے ضلعی انتظامیہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی۔
دوسری جانب ترجمان پمز کے مطابق 5 نومولود بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ متاثرہ ایم سی ایچ وارڈ کے تیسرے فلور کو سیل کر کے ریسکیو اور شناخت کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔
انکوائری کمیٹی کی تشکیل اور الٹی میٹم
آتشزدگی کی وجوہات اور غفلت کے تعاقب کے لیے ضلعی انتظامیہ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر کے 8 رکنی اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں کام کرنے والی اس کمیٹی میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی، ایس پی سٹی، اسسٹنٹ کمشنر آئی نائن اور ڈی جی سی ڈی اے کو شامل کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ آئیسکو اور پمز اسپتال کے افسران بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ کمیٹی کو 24 گھنٹے کے اندر تحقیقات مکمل کر کے اپنی مفصل رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اعلیٰ حکام کا دورہ اور ریسکیو کا آپریشن
سانحے کی اطلاع ملتے ہی چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی پولیس علی ناصر رضوی نے پمز اسپتال کا موقع پر دورہ کیا اور جاری امدادی کارروائیوں کا خود جائزہ لیا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لے کر آگ پر قابو پایا۔ واقعے کے بعد پمز اسپتال کے ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل، جہاں آگ لگی تھی، کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
شناخت کا عمل اور عینی شاہدین کے الزامات
ترجمان پمز اسپتال کے مطابق 5 جاں بحق نومولود بچوں کی ڈیڈ باڈیز کو ان کے لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر بچوں کی ٹیگنگ سسٹمز کے ذریعے شناخت کا عمل تاحال جاری ہے۔
دوسری جانب اسپتال میں موجود ایک عینی شاہد خاتون نے انتہائی غمگین لہجے میں بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں بہت تاخیر سے پہنچیں۔ خاتون نے انکشاف کیا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے نرسری میں بچوں کو نقصان پہنچا، لوگ اپنا تمام سامان چھوڑ کر صرف اپنے بچوں کو گود میں اٹھا کر باہر کی جانب بھاگے۔
پمز اسپتال کا مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (‘ایم سی ایچ’) وارڈ وفاقی دارالحکومت میں زچگی اور نو زائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کا مرکزی مرکز تصور کیا جاتا ہے جہاں روزانہ سینکڑوں مریض زیرِ علاج رہتے ہیں۔
اس سے قبل بھی اسپتال کے مختلف شعبوں میں برقی شارٹ سرکٹ اور فائر سیفٹی پروٹوکولز کی عدم موجودگی پر خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
پمز اسپتال جیسے اہم ترین طبی ادارے میں آتشزدگی اور 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کرنے کا عمل انتظامیہ کی فوری حرکت کو تو ظاہر کرتا ہے، لیکن عینی شاہدین کے بیانات اور ریسکیو میں تاخیر کے الزامات حکومتی ایمرجنسی رسپانس سسٹمز پر کئی سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
8 رکنی کمیٹی میں تمام متعلقہ اداروں بشمول سی ڈی اے، پولیس اور آئیسکو کے افسران کی شمولیت سے امید کی جا سکتی ہے کہ برقی خرابی اور تکنیکی غفلت کے اصل اسباب سامنے آئیں گے۔
تاہم صرف کمیٹی کی رپورٹ کافی نہیں ہوگی بلکہ متاثرہ خاندانوں کی دادرسی، غفلت کے مرتکب عملے کے خلاف سخت کارروائی اور دارالحکومت کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ہنگامی انخلا اور آتشزدگی سے بچاؤ کے سسٹمز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔