خیبرپختونخوا محکمہ فارسٹ نے ہزارہ ڈویژن میں اگلے دس سالوں کے دوران جنگلات سے تین کروڑ تیس لاکھ کیوبک فٹ لکڑی کاٹنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے جبکہ دوسری جانب سالوں قبل کاٹی گئی اربوں روپے کی لکڑی نیلامی کیلئے ڈپو تک منتقل نہیں کیا گیا ہے۔ عملہ کی کمی کے باعث اکیس راستوں سے سمگلنگ جاری ہیں۔
محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات کے مطابق ہزارریجن میں 23 سائنٹیفک منیجمنٹ پلانز کے تحت تین کروڑ تیس لاکھ کیوبک فٹ لکڑی کاٹی جائیگی، جبکہ سالانہ تینتیس لاکھ لکڑی کاٹی جائیگی، محکمہ فارسٹ کے مطابق اس مقدار کا ایک بڑا حصہ نئی کٹائی نہیں بلکہ گزشتہ ورکنگ پلانز کے دوران نہ کاٹی جانے والی لکڑی کا بیک لاگ ہے۔
ریزروڈ فارسٹ کا پہلا ورکنگ پلان 1904 میں بنایا گیا جبکہ پروٹیکٹیڈ جنگلات کا پہلا پلان 1965 اور گزارہ فارسٹ کا 1960 کی دہائی میں تیار کیے گئے تھے۔ محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے تحت مقررہ مقدار میں لکڑی مکمل طور پر حاصل نہیں کی جا سکی، جس کے نتیجے میں کٹائی کا حجم وقت کے ساتھ جمع ہوتا گیا۔
رواں سال یعنی کے 2026 اور 27 میں اس وقت دس ورکنگ پلانز فعال ہے اور باقی ماندہ ایکسپائرڈ ہوچکے ہیں جس کو دوبارہ فعال کیا جائیگا تاہم فعال ورکنگ پلانز کے تحت بائیس لاکھ سی ایف ٹی لکڑی کاٹی جائیگی جس میں 87 ہزار 267 درخت کی کٹائی شامل ہے، جس کی مالیت ٹیکس سمیت 86 کروڑ 90 لاکھ ہے۔
تاہم محکمہ جنگلات نے پورے 10 سال کے دوران کاٹے جانے والے درختوں کی مجموعی تعداد یا متوقع آمدن کا مکمل تخمینہ فراہم نہیں کیا۔
ہزارہ میں جنگلات کتنے اور کس کی ملکیت ہیں؟
اس منصوبے کی اہمیت سمجھنے کے لیے ہزارہ کے جنگلات کی ملکیت اور تقسیم کو دیکھنا ضروری ہے۔ ہزارہ ڈویژن کا کل رقبہ سترہ لاکھ ہیکٹر ہے، جس میں تقریباً 35 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ ان میں ریزروڈ جنگلات 10.5 فیصد ہیں، جو مکمل طور پر حکومت کی ملکیت اور انتظام میں ہیں، جبکہ گزرہ جنگلات 36.5 فیصد ہیں جو مقامی آبادی کی ملکیت ہیں، تاہم ان کی نگرانی محکمہ جنگلات کرتا ہے۔ اسی طرح پروٹیکٹڈ جنگلات 15.8 فیصد رقبے پر مشتمل ہیں، جن میں حکومت کی ملکیت 20 فیصد جبکہ مقامی آبادی کی ملکیت 80 فیصد ہے۔ باقی 37.2 فیصد رقبے میں غیر درجہ بند، بحال شدہ اور نجی زمین شامل ہے۔
قانونی کٹائی کیسے ہوتی ہے؟
محکمہ جنگلات کے ورکنگ پلان عام طور پر 10 سے 15 سال کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور موجودہ منصوبے کی مدت ختم ہونے سے پہلے نئے منصوبے کی تیاری شروع کردی جاتی ہے۔ ابتدائی منصوبہ متعلقہ کنزرویٹر تیار کرکے جنگلات کی منصوبہ بندی اور نگرانی کے متعلقہ ادارے کو بھیجتا ہے، جس کے بعد محکمہ جنگلات کی ٹیمیں جنگلات کا دورہ کرکے درختوں کی تعداد، عمر، حالت اور حجم سمیت مختلف اعداد و شمار جمع کرتی ہیں۔
اس منصوبے کا مختلف افسران، کنزرویٹرز اور تکنیکی کمیٹی جائزہ لیتے ہیں اور منظوری کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ سائنٹیفک مینجمنٹ کے تحت خشک، مردہ، بیمار یا عمر رسیدہ درختوں کی نشاندہی کرکے انہیں کٹائی کے لیے نشان زدہ کیا جاتا ہے، جبکہ محکمہ جنگلات کے مطابق ایک الگ نگرانی کے نظام کے ذریعے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ صرف نشان زدہ درخت ہی کاٹے جائیں۔ گزارہ اور پروٹیکٹڈ جنگلات میں مقامی آبادی کے ملکیتی حقوق کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
تاہم یہ پورا نظام کاغذ پر جتنا واضح دکھائی دیتا ہے، اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ جنگلات میں اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے محکمہ کے پاس مطلوبہ اہلکار، گاڑیاں اور دیگر وسائل کتنے دستیاب ہیں۔ لیکن تاریخ دان اور محقق پروفیسر سلطانِ روم کے مطابق موجودہ انتظامی منصوبہ بندی میں بعض اوقات ایسے درخت بھی کاٹ دیے جاتے ہیں جنہیں نہیں کاٹا جانا چاہیے۔
پھرغیر قانونی لکڑی کیوں سستی ہے؟
یہ سوال اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب قانونی اور غیر قانونی لکڑی کی قیمت کا موازنہ کیا جائے۔ ضلع بٹگرام کے رہائشی اور جنگلاتی زمین کے مالک خانزادہ خان کے مطابق غیر قانونی طور پر کاٹی گئی لکڑی قانونی لکڑی کے مقابلے میں کہیں سستی ہے۔ ان کے مطابق لاہور سے آنے والے ایک خریدار نے ان کی قانونی لکڑی خریدنا چاہا تاہم انہوں نے 2 ہزار روپے فی فٹ کا مطالبہ کیا انہیں نزدیک ہی 1400 روپے فی فٹ غیر قانونی لکڑی خریدی اور اسے لاہور منتقل کر دیا گیا۔
ان کے مطابق قانونی لکڑی محکمہ جنگلات کے اجازت نامے اور ضروری دستاویزات کے ساتھ ملک کے کسی بھی حصے میں لے جائی جا سکتی ہے، جبکہ غیر قانونی لکڑی کی نقل و حمل قانوناً ممنوع ہے۔ لیکن ایک منظم نیٹ ورک غیر قانونی لکڑی کو ہزارہ سے ملک کے دوسرے حصوں تک پہنچاتا ہے۔
اسمگلنگ کے راستے کہاں ہیں؟
محکمہ جنگلات نے ہزارہ میں لکڑی کی غیر قانونی نقل و حمل روکنے کے لیے 53 چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں، جن میں سے 18 پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔ محکمہ فارسٹ کی جانب سے مہیا کی جانے والی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2018-19 سے جون 2025 تک ہزارہ میں تقریباً 35 ہزار 209 مکعب فٹ غیر قانونی لکڑی پکڑی گئی اور 38 کروڑ 36 لاکھ روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
محکمہ جنگلات کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ماضی میں لکڑی دریاؤں کے ذریعے کشتیوں پر منتقل کی جاتی تھی۔ ان کے مطابق ہزارہ میں 32 مقامات ایسے تھے جہاں لکڑی اتاری جاتی تھی اور یہ سلسلہ 2012 تک جاری رہا۔ بعد میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے بعد سمگلنگ کے راستے تبدیل ہوئے۔ اب 21 ایسے راستے ہیں جو موٹروے سے ملتے ہیں اوراس پر باڑ نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ راستوں سے سمگلنگ ہوتی ہے ۔
ان راستوں کی مؤثر نگرانی کے لیے کم از کم 189 اہلکار درکار ہیں۔ غیر قانونی لکڑی سے لدی گاڑیوں کو روکنے کے لیے کم از کم چار گاڑیوں کی بھی ضرورت ہے۔ سمگلر مسلح ہوتے ہیں، اس لیے کارروائی کے لیے مناسب وسائل بھی ضروری ہیں۔
تاہم چیف کنزرویٹر اصغر خان کے مطابق پورے خیبر پختونخوا میں محکمہ جنگلات کو تقریباً 4500 اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔ ایک جنگلاتی محافظ کو اوسطاً 447 ہیکٹر، یعنی 4.47 مربع کلومیٹر جنگلاتی رقبے کی پیدل نگرانی کرنا پڑتی ہے۔
محکمہ جنگلات اور موٹروے پولیس میں اختلاف کیوں؟
ہزارہ ریجن کے چیف کنزرویٹر اصغر خان کے مطابق موٹروے پولیس اور محکمہ جنگلات کے درمیان بھی سمگلنگ کے خلاف کارروائی کے معاملے پر اختلافات ہیں۔ ان کے مطابق محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کو موٹروے پر کارروائی کرنے یا اپنی ٹیمیں تعینات رکھنے سے روک دیا جاتا ہے۔ اس معاملے پر دونوں اداروں کے درمیان کئی مرتبہ تنازعات ہوئے۔ 2022 میں دونوں اداروں نے لکڑی کی سمگلنگ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بھی تیار کی تھی لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔
کیا سیاسی اثر و رسوخ بھی مسئلہ ہے؟
وسائل کی کمی کے ساتھ سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات بھی سامنے آتے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ہزارہ کے ایک ضلع میں بعض سیاسی شخصیات غیر قانونی لکڑی کاٹنے والوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ غیر قانونی طور پر کاٹی گئی لکڑی بعض بااثر افراد کی زمینوں پر بھی ذخیرہ کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بعض سیاسی خاندان مقامی سطح پر طویل عرصے سے اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور ماضی میں محکمہ جنگلات میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔ مقامی اہلکار ایسے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کرتے ہیں اور بعض اہلکار کارروائی کرنے کے بجائے تبادلے یا ملازمت چھوڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔