سانحہ پمز پر وزیراعظم شہباز شریف نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کا جاں بحق ہونا ایک ناقابلِ بیان قومی سانحہ ہے، جس پر پوری قوم سوگوار ہے۔ والدین اپنے بچوں کو زندگی کی امید کے ساتھ ہسپتال لائے تھے، تاہم انہیں ایسا صدمہ برداشت کرنا پڑا جس کا کوئی مداوا ممکن نہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سانحے کی اطلاع ملتے ہی فوری نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے متعلقہ افسران سے سخت بازپرس کرتے ہوئے واضح کیا کہ 14 معصوم جانوں کے ضیاع پر کسی قسم کی تاخیر، غفلت یا روایتی عذر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ہنگامی اجلاس کے دوران وزیراعظم نے سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کرکے فوری طور پر اجلاس سے باہر جانے کا حکم دیا۔
وزیراعظم نے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، جس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ کمیٹی واقعے کی وجوہات، حفاظتی انتظامات میں ممکنہ خامیوں اور ذمہ دار افسران کے کردار کا مکمل جائزہ لے گی۔
سماجی حلقوں کی جانب سے وزیراعظم کے فوری اور دوٹوک ایکشن کو قابلِ تحسین قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سانحے کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ واقعے کے حوالے سے یہ سوالات بھی اہم ہیں کہ نرسری میں آگ کیسے لگی، حفاظتی نظام نے کام کیوں نہیں کیا اور معصوم بچوں کو بروقت کیوں نہ بچایا جا سکا۔