آزاد کشمیر میں سرساوہ سے تراڑ کھل تک بند راستوں کو بحال کرنے کے لیے کیے جانے والے کلیئرنس آپریشن کے دوران انتشاری ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسندوں نے سیکیورٹی فورسز پر اچانک فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں پاکستان رینجرز کا ایک جوان شہید جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آزاد کشمیر کے علاقوں سرساوہ اور تراڑ کھل کے درمیانی راستوں پر طویل بندش کے باعث مقامی آبادی کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے علاقے میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل رک گئی تھی اور غذائی قلت پیدا ہو رہی تھی۔ مقامی مکینوں کے پرزور مطالبے اور ان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بند سڑکیں کھولنے کے لیے کلیئرنس آپریشن کا آغاز کیا۔ تاہم، اس عوامی فلاحی آپریشن کے دوران مسلح جتھے میں شامل سنائپرز نے اہلکاروں پر نشانہ باندھ کر فائرنگ کر دی۔
رینجرز اہلکار کی شہادت اور زخمیوں کی تفصیل
انتشاری ایکشن کمیٹی کے مسلح فسادیوں کی جانب سے کی گئی اس فائرنگ کے نتیجے میں پاکستان رینجرز کے سپاہی شاہ نواز کے سینے پر گولی لگی اور وہ فرض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اسی حملے میں رینجرز کے لانس نائیک بلال کندھے پر گولی لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ شہید ہونے والے اہلکار سپاہی شاہ نواز کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر خیرپور سے ہے، جنہوں نے ریاستی فرائض کی انجام دہی میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
ماہرین کا ردعمل
اس افسوسناک واقعے پر سیکیورٹی ماہرین نے کڑی تنقید کرتے ہوئےکہا کہ ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف جدید اسلحے اور بارودی مواد کا استعمال کوئی عام احتجاج نہیں، بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی گئی دہشت گردی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سنائپرز کے ذریعے حملے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ عناصر پرتشدد کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر تیار تھے۔
ریاستی رٹ کا قیام اور قانونی کارروائی کا مطالبہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی یہ بے مثال قربانیاں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ ریاست کی رٹ کا قیام اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر حال میں ناگزیر ہے۔ ماہرین نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ ریاستی اداروں پر حملوں میں ملوث ان مسلح جتھوں کے خلاف فوری، سخت اور بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے، جو اس وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کی آڑ میں راستوں کی بندش نے عام شہریوں کی زندگیاں بری طرح متاثر کی تھیں۔ آمد و رفت کے ذرائع کٹ جانے سے نہ صرف مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں رکاوٹیں آ رہی تھیں، بلکہ خطے میں اشیائے خور و نوش کی سپلائی لائن بھی منقطع ہو چکی تھی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ کلیئرنس آپریشن علاقہ مکینوں کو انہی بنیادی انسانی تکالیف اور غذائی بحران سے نجات دلانے کے لیے عمل میں لایا جا رہا تھا۔