پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وفاقی حکومت اور ہسپتال انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم اس سیاسی ردعمل کے ساتھ 2020 میں خیبر پختونخوا میں پیش آنے والا خیبر ٹیچنگ ہسپتال کا آکسیجن بحران بھی ایک بار پھر زیرِ بحث آگیا ہے۔
دسمبر 2020 میں پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں آکسیجن کی سپلائی میں تعطل کے باعث ابتدائی طور پر چھ مریضوں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی تھی جبکہ بعد کی تحقیقات میں اموات کی تعداد سات بتائی گئی۔ ان میں ایک دو سالہ بچہ بھی شامل تھا۔ واقعے کے بعد ہسپتال کے متعدد افسران اور اہلکاروں کو معطل کیا گیا جبکہ تحقیقاتی رپورٹ میں آکسیجن سپلائی کے نظام، انتظامی غفلت اور بیک اَپ انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
خیبر ٹیچنگ ہسپتال کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہسپتال میں آکسیجن کے مناسب ذخیرے اور متبادل انتظامات کی کمی کے ساتھ ساتھ سپلائی اور نگرانی کے نظام میں بھی خامیاں موجود تھیں۔
اب پمز میں بچوں کی ہلاکت کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی حکومت کو ذمہ دار قرار دیے جانے پر ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ہسپتالوں میں انتظامی غفلت کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع ناقابلِ قبول ہے تو یہی اصول 2020 کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال واقعے پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہسپتالوں میں ہونے والی اموات کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے صرف اس وقت موضوع بنانا جب مخالف حکومت اقتدار میں ہو، مناسب طرزِ عمل نہیں۔ ان کے مطابق پمز واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے، لیکن ماضی میں ہونے والے ایسے واقعات کا احتساب بھی اسی معیار کے تحت ہونا چاہیے۔