بیورو کریسی اور انتظامیہ کی غفلت، 2016 سے 2026 تک اسپتالوں میں رونما ہونے والے واقعات کی رپورٹ منظر عام پر آگئی

بیورو کریسی اور انتظامیہ کی غفلت، 2016 سے 2026 تک اسپتالوں میں رونما ہونے والے واقعات کی رپورٹ منظر عام پر آگئی

پاکستان کے پبلک سیکٹر اسپتالوں میں مسلسل انتظامی بدانتظامی، آکسیجن کی سپلائی میں ناکامی اور سندھ میں شدید غذائی قلت کی وجہ سے معصوم بچوں کی اموات نے ملک کے پورا انتظامی نظام چلانے والی ‘بیوروکریسی’ کی ناکامی کو پوری طرح سے عیاں کر دیا ہے۔

یہ بحران کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ اس افسر شاہی کے ڈھانچے کا ہے جہاں سول سرونٹس کی عدم توجہی اور نااہلی کی قیمت شہری اپنی جانیں دے کر ادا کر رہے ہیں۔

اسی بنا پر اب کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، ریسکیو 1122 اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل اسٹڈیز(پمز ) جیسے اداروں کے انتظامی سربراہان کی فوری تبدیلی اور پورے سسٹم کے ‘ری سیٹ’ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

حکومتیں بدلتی رہیں پر بیوروکریٹک رویہ نہ بدل سکا

پاکستان میں سیاسی حکومتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں، مگر ملک کا اصل انتظام اور تمام بنیادی خدمات کی فراہمی بیوروکریسی ہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پمز آتشزدگی ، واحد زندہ بچنے والی نومولود بچی کو ہسپتال انتظامیہ نے نہیں خالہ نے بچایا

بدقسمتی سے پالیسیوں کے نفاذ سے لے کر اسپتالوں کے یومیہ امور تک، ہر جگہ افسر شاہی کا رویہ روایتی سستی اور عدم احتساب کا عکاس نظر آتا ہے۔

سال 2020 میں خیبر ٹیچنگ اسپتال (کے ٹی ایچ) پشاور میں آکسیجن کی فراہمی منقطع ہونے سے 7 مریض، جن میں ایک 2 سالہ بچہ بھی شامل تھا، دم توڑ گئے تھے۔ اس افسوسناک واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ نے بھی صاف طور پر سپلائی چین اور انتظامی امور کی سنگین ناکامی کی نشاندہی کی تھی۔

سندھ میں غذائی قلت اور اسپتالوں کی مجرمانہ لاپرواہی

دوسری جانب، سندھ کے مختلف اضلاع میں غذائی قلت کی وجہ سے ہر سال درجنوں معصوم بچے اپنی جانیں ہار بیٹھتے ہیں، جس کی بڑی وجہ ضلعی انتظامیہ اور صحت کی بیوروکریسی کا بروقت علاج اور خوراک پہنچانے میں ناکام رہنا ہے۔

پبلک سیکٹر اسپتالوں میں بنیادی سہولیات کا نہ ہونا کوئی نیا واقعہ نہیں رہا۔ کبھی سکھر اور بہاولنگر میں آکسیجن کی قلت سے نومولود بچے دم توڑ جاتے ہیں، تو کبھی خانیوال اور پاکپتن کے اسپتالوں میں عملے کی غفلت اور تکنیکی ناکامیاں المیے بن جاتی ہیں۔

سی ڈی اے، ریسکیو 1122 اور پمز، اعلیٰ انتظامی عہدوں کی اوور ہالنگ کا مطالبہ

موجودہ حالات اس بات کے تقاضا کرتے ہیں کہ محض نچلے درجے کے ملازمین کو معطل کرنے کے بجائے اداروں کے سربراہان کا احتساب کیا جائے۔

اسلام آباد کے اہم اداروں جیسے کہ سی ڈی اے، ہنگامی خدمات کے ادارے ‘ریسکیو 1122’ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے سی ای او سمیت تمام انتظامی عہدوں پر بڑے پیمانے پر ‘ری سیٹ’ کی اشد ضرورت ہے۔

جب تک اعلیٰ بیوروکریسی کو سسپنشن اور کاغذی کارروائیوں سے نکال کر براہِ راست نتائج کا پابند نہیں بنایا جائے گا، عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ناممکن رہے گا۔

2016 سے 2026 تک اسپتالوں میں غفلت کی تلخ تاریخ

اگر ہم پچھلے ایک دہائی کے ارتقا پر نظر ڈالیں تو پبلک سیکٹر اسپتالوں کا ریکارڈ بیوروکریسی کی ناکامی کا چیختا ہوا ثبوت ہے

دسمبر 2020 میں پشاور کے ٹی ایچ میں آکسیجن کا نظام بیٹھنے سے 7 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ نومبر 2021 اور نومبر 2024 میں کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج اور لاہور کے بچوں کے اسپتال کی حدود میں کھلارے گئے مین ہولز میں گر کر معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے، جس کی وجہ محض انتظامی غفلت تھی۔

جون 2025 میں ڈی ایچ کیو پاکپتن میں آکسیجن کی مبینہ قلت اور غفلت کے باعث 20 بچے جن میں 15 نومولود شامل تھے، زندگی کی بازی ہار گئے۔

مزید پڑھیں:سانحہ پمز اسپتال، نرسری میں آگ کے اندرونی مناظر، جاں بحق بچوں کی لاشوں کو نکالنے کی دلخراش ویڈیوز سامنے آگئیں

اگست 2026 میں اسلام آباد کے پمز اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ، نرسری وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس سے کم از کم 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔

یہ تمام واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انکوائری کمیٹیوں کا بننا صرف وقتی طور پر عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہوتا ہے، جبکہ اصل مسئلے یعنی بیوروکریٹک نظام کی خرابی پر کوئی حل نہیں نکالا جاتا۔

اصلاحات کے بغیر ‘نظام کا سدھار’ ناممکن

اس تمام صور حال سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا بیوروکریٹک اسٹرکچر اس وقت شدید جمود کا شکار ہے۔ افسرانِ بالا فائلوں کو ایک میز سے دوسری میز تک بھیجنے میں تو ماہر ہیں مگر زمینی سطح پر اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز، فائر سیفٹی سسٹمز اور ادویات کی فراہمی پر ان کا کوئی حقیقی کنٹرول نظر نہیں آتا۔

ہر واقعے کے بعد انکوائری رپورٹ بنتی ہے لیکن کسی اعلیٰ افسر کو نہ تو نوکری سے نکالا جاتا ہے اور نہ ہی سزا دی جاتی ہے۔

اگر اب بھی سی ڈی اے، ریسکیو 1122 اور صحت کے شعبے سے وابستہ انتظامی سربراہان کی کارکردگی کا سخت آڈٹ نہ کیا گیا اور ان کا ‘ری سیٹ’ نہ ہوا تو مستقبل میں بھی ایسے دلخراش واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔

بیوروکریسی کو ‘حکمران’ کے بجائے ‘عوام کا خادم’ بنانے کے لیے سخت قانونی اور ساخت جاتی اصلاحات کا نفاذ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

Related Articles