پی ٹی آئی دورِ حکومت میں اسلام آباد میں آتشزدگی کے 16 بڑے واقعات پیش آئے، ہوشربا رپورٹ منظرِ عام پر آگئی

پی ٹی آئی دورِ حکومت میں اسلام آباد میں آتشزدگی کے 16 بڑے واقعات پیش آئے، ہوشربا رپورٹ منظرِ عام پر آگئی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فائر سیفٹی کے انتظامات پر بڑے سوالات اٹھ گئے۔ 24 اکتوبر 2018 سے 29 دسمبر 2021 تک کے عرصے کی جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق شہر کی حساس ترین سرکاری عمارتوں، عوامی بازاروں، رہائشی علاقوں اور مارگلہ ہلز کے جنگلات میں آتشزدگی کے 16 بڑے اور خطرناک واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

حساس سرکاری عمارتوں میں آتشزدگی
رپورٹ کے مطابق ان سالوں کے دوران ملک کی اہم ترین اور حساس عمارتیں بھی غیر محفوظ رہیں۔ اس سلسلے کا آغاز 24 اکتوبر 2018 کو زیرو پوائنٹ جی سیون (G-7) میں واقع پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) میں لگنے والی آگ سے ہوا۔ اگلے ہی سال، 8 اپریل 2019 کو وزیراعظم آفس میں آگ لگنے کے واقعے نے سیکیورٹی اداروں کی دوڑیں لگوا دیں، جبکہ 17 فروری 2020 کو پارلیمنٹ لاجز میں بھی آتشزدگی کا بڑا واقعہ رپورٹ کیا گیا۔

تجارتی مراکز اور عوامی مقامات کی راکھ
حساس عمارتوں کے ساتھ ساتھ عوامی اور تجارتی مقامات پر لگنے والی آگ نے شہریوں اور تاجروں کا کروڑوں روپے کا نقصان کیا۔ 3 جولائی 2019 کو جی سکس (G-6) آبپارہ اتوار بازار اور 29 اکتوبر 2019 کو ایچ نائن (H-9) ہفتہ وار بازار میں ہولناک آگ بھڑکی۔ تجارتی مراکز میں 10 جنوری 2020 کو آئی ایٹ (I-8) مرکز اور 29 دسمبر 2021 کو بلیو ایریا کے معروف غوثیہ پلازہ میں آتشزدگی کے خوفناک واقعات پیش آئے۔

یہ بھی پڑھیں: پمز سانحہ: 14 نومولود بچوں کا جاں بحق ہونا ایک ناقابلِ بیان قومی سانحہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف

رہائشی علاقوں میں شہریوں کا جانی نقصان
ان واقعات سے رہائشی علاقے بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ 10 جون 2019 کو جی نائن تھری (G-9/3) کی ایک رہائش گاہ میں آگ لگنے سے 4 افراد زخمی ہوئے، جبکہ 10 مئی 2020 کو جی ٹین ٹو (G-10/2) کے ایک گھر میں بھی ایسا ہی افسوسناک واقعہ رپورٹ ہوا۔

مارگلہ ہلز کے جنگلات کا مسلسل کٹاؤ اور تباہی
شہر کی عمارتوں کے علاوہ وفاقی دارالحکومت کے قدرتی حسن، مارگلہ ہلز کے جنگلات اس عرصے کے دوران سب سے زیادہ اور تسلسل کے ساتھ متاثر ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق

4 سے 10 جون 2019 کے درمیان مارگلہ ہلز میں لگنے والی آگ کئی روز تک بے قابو رہی۔ 17 فروری 2020 کو مارگلہ ہلز کے دامن ڈی ٹویلو (D-12) لنڈا ولیج میں آگ بھڑکی۔

یہ بھی پڑھیں: پمز سانحہ : یہ غفلت نہیں جرم ہے!صحافیوں اورسوشل میڈیا ایکٹویسٹس نے ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے

اسی سال 17 جون 2020 کو مارگلہ ہلز میں دوبارہ، اور 19 اکتوبر 2020 کو جبری کے مقام پر آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔ اپریل 2021 میں لوئی داندی، ڈی ٹویلو (D-12) اور ایف نائن (F-9) کے علاقوں میں آتشزدگی ہوئی۔

26 سے 29 مئی 2021 تک مارگلہ ہلز کے مقامات تلہار، سید پور اور پیر سوہاوہ میں شدید آگ لگی رہی۔ 12 دسمبر 2021 کو بڈو بن کے مقام پر لگنے والی آگ نے بھی جنگلی حیات اور درختوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

شہریوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں تسلسل کے ساتھ پیش آنے والے ان واقعات پر اس وقت کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی اور فائر سیفٹی کے نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

Related Articles