پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے نے ہسپتال کے ناقص حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس واقعے میں متعدد بچوں کی اموات سے ہر آنکھ اشکبار اور ہردل غمزدہ ہے ، متاثرہ والدین کی جانب سے ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت، ایمرجنسی رسپانس میں تاخیر اور عملے کی غیر موجودگی کے حوالے سے بیانات سامنے آئے ہیں وہیں سی ڈی اے کی رپورٹ بھی حکومت کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے ۔
اس سانحے پر جہاں سیاسی و سماجی شخصیات نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا وہیں صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹس نے ہسپتال انتظامیہ کی بے حسی اور ناقص انتظامات پر سخت سوال اٹھا دیے ۔
سینئر صحافی حامد میر نے پمز کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک دکھی ماں کے آنسوؤں نے اسپتال کے نظام اور مبینہ کرپشن کا بھانڈا فٹ پاتھ پر پھوڑ دیا۔
پمز کرپشن کا گڑھ ہے وزرا کہتے ہیں یہ پاکستان کا بہترین اسپتال ہے لیکن ایک دکھی ماں کے آنسوؤں نے کرپشن کا بھانڈا فٹ پاتھ پر پھوڑ دیا https://t.co/fEfHmm7vZx
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 26, 2026
’ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ افسوس کہ وفاقی وزرا کئی دن سے اسلام آباد کے پمز اسپتال کی شان میں قصیدے بیان کر رہے تھے پمز میں آج آگ لگ گئی اور 15 نومولود بچوں کی جان چلی گئی اللّٰہ تعالیٰ ان بچوں کے والدین کو صبر دے اور حکمرانوں کو ہدایت عطا کرے جن کی غلط بیانیاں ایک تماشہ بن چکی ہیں۔
صحافی عاصمہ شیرازی نے واقعے کو افسوسناک اور شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پمز اسپتال میں پیش آنے والا سانحہ محض غفلت نہیں بلکہ مبینہ طور پر ایک سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
افسوسناک اور شرمناک! پمز اسپتال میں ہونے والا سانحہ غفلت نہیں جُرم ہے۔ یہ وفاقی دارلحکومت کا سب سے بڑا اسپتال ہے اور حالت یہ ہے کہ پندرہ بچے جل کے مر گئے ، والدین کرب ناک حالت میں بتا رہے ہیں کہ دروازہ باہر سے بند تھااور کوئی شخص بھی وہاں موجود نہ تھا۔والدین کے مطابق سارا عملہ… pic.twitter.com/kgtE6OIHSc
— Asma Shirazi (@asmashirazi) August 26, 2026
عاصمہ شیرازی کے مطابق والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے وارڈ کا دروازہ باہر سے بند تھا اور اس وقت کوئی شخص وہاں موجود نہیں تھا۔ والدین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اسپتال کا پورا عملہ ایک ہی وقت میں کیسے غائب ہوسکتا ہے؟
صحافی آمنہ جنجوعہ نے لکھا کہ ریسکیو ٹیمیں مبینہ طور پر آگ لگنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد پمز پہنچیں، پمز ہسپتال نیں اس وقت صف ماتم بچھا ہے ، کل تک ہسپتال میں جو لوگ بچے کی پیدائش پر مٹھائیاں بانٹ رہے تھے اس وقت وہ دھاڑیں مار کر روتے ہوئے اپنے بچوں کی لاشیں مانگ رہے ہیں ، اس ملک میں غریب کی خوشیاں بھی سسٹم نگل جاتا ہے۔
پمز ہسپتال نیں اس وقت صف ماتم بچھا ہے
کل تک ہسپتال میں جو لوگ بچے کی پیدائش پر مٹھائیاں بانٹ رہے تھے اس وقت وہ دھاڑیں مار کر روتے ہوئے اپنے بچوں کی لاشیں مانگ رہے ہیں۔۔
اس ملک میں غریب کی خوشیاں بھی سسٹم نگل جاتا ہے۔ #pims #پمز pic.twitter.com/3Umm9XGjY5— Amna Janjua (@amnahussain96) August 26, 2026
سینئر صحافی فہد حسین ، نصرت جاوید اور فریحہ ادریس نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس واقعے پر اپنی رائے کا اظہار کیا ۔
Shameful, instead of giving them solace, that’s what you do? Shut them up? Woh royen bhee na, bolain bhee na, cheekhain bhee na. Takeh koi sunn na lay? Yeh na ho Allah sun lay unn ki. Have some heart. https://t.co/bKkJXKLImw
— Fereeha M Idrees (@Fereeha) August 26, 2026
Fourteen infants burned to death in PIMS is not just a tragedy, it is a crime committed by all those who are entrusted with running the hospital. And their bosses. While we obsess with high politics, this is the harsh reality of Pakistan that is a byproduct of atrocious…
— Fahd Husain (@Fahdhusain) August 26, 2026
وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے اور اہم سرکاری ہسپتال PIMS میں 15 نومولود بچوں کی آگ میں جھلس کر موت صرف ایک سانحہ نہیں، انتظامی غفلت اور حفاظتی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ وزیر داخلہ @MohsinnaqviC42 جو روز اسلام آباد میں پھرتیاں دکھارہے ہوتے ہیں، کیا قوم کو بتائیں گے یہ سب…
— Shabbir Dar (@ShabbirDar5) August 26, 2026
پمز سے بچے چوری ہوتے ہیں، اِس لئے نرسری کو تالے لگائے جاتے ہیں، آج وہ تالے نہ وقت پر کُھلے، نہ ٹوٹ سکے جس وجہ سے ایک بہت بڑے سانحے نے جنم لے لیا، سب سے بڑے سرکاری اسپتال کی سیکیورٹی یہ ہے، کتنا بجٹ ہو گا اِس اسپتال کا؟، کیا نرسری میں 24 گھنٹے گارڈز تعینات نہیں کئے جا سکتے۔۔!! pic.twitter.com/SfMNSq1t4m
— Khurram Iqbal (@khurram143) August 26, 2026
پمز اسپتال میں آگ لگنے کے بعد جب والدین اپنے بچے بچانے کے لیے نرسری کی طرف جانے لگے تو بڑے بڑے تالے لگے ہوئے تھے بے بس والدین چیختے رہے۔۔۔
pic.twitter.com/bkI07ZYntp— Aamir Saeed Abbasi (@AmirSaeedAbbasi) August 26, 2026
آگ سے بچاؤ کے لیے آلات فراہم کرنا کس کا کام ھے؟؟
اسلام آباد میں سب سے بڑا سرکاری ہسپتال پمز ھے۔ جس میں کشمیر اور راولپنڈی ڈویژن کے مریض بھی علاج کے لیے آتے ہیں ۔بظاہر آگ سنگین کوتاہی کا نتیجہ ھے ۔ https://t.co/H3Lb2ZrtM3— Hasnaat Malik (@HasnaatMalik) August 26, 2026
صرف سیکریٹری صحت اسلم غوری کو کیوں ہٹایا گیا ہے؟
سانحہ کی اصل زمہ دار تو پمز کی انتظامیہ ہے؟
کتنے ڈاکٹروں، نرسوں، اور عملے کو غفلت پر گرفتار کیا گیا ہے
پمز کے کس اعلیٰ اہلکار کو معطل کیا گیا ہے؟ https://t.co/8MASGiGyO7— Dr Shama Junejo (@ShamaJunejo) August 26, 2026

