پمز سانحہ : یہ غفلت نہیں جرم ہے!صحافیوں اورسوشل میڈیا ایکٹویسٹس نے ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے

پمز سانحہ : یہ غفلت نہیں جرم ہے!صحافیوں اورسوشل میڈیا ایکٹویسٹس  نے ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے نے ہسپتال کے ناقص حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اس واقعے میں متعدد بچوں کی اموات سے ہر آنکھ اشکبار اور ہردل غمزدہ ہے ، متاثرہ والدین کی جانب سے ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت، ایمرجنسی رسپانس میں تاخیر اور عملے کی غیر موجودگی کے حوالے سے بیانات سامنے آئے ہیں وہیں سی ڈی اے کی رپورٹ بھی حکومت کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے ۔

اس سانحے پر جہاں سیاسی و سماجی شخصیات نے  دکھ اور افسوس کا اظہار کیا وہیں صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹس نے ہسپتال انتظامیہ  کی بے حسی اور ناقص انتظامات پر سخت  سوال اٹھا دیے ۔

سینئر صحافی حامد میر نے پمز کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک دکھی ماں کے آنسوؤں نے اسپتال کے نظام اور مبینہ کرپشن کا بھانڈا فٹ پاتھ پر پھوڑ دیا۔

’ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ افسوس کہ وفاقی وزرا کئی دن سے اسلام آباد کے پمز اسپتال کی شان میں قصیدے بیان کر رہے تھے پمز میں آج آگ لگ گئی اور 15 نومولود بچوں کی جان چلی گئی اللّٰہ تعالیٰ ان بچوں کے والدین کو صبر دے اور حکمرانوں کو ہدایت عطا کرے جن کی غلط بیانیاں ایک تماشہ بن چکی ہیں۔

صحافی عاصمہ شیرازی نے واقعے کو افسوسناک اور شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پمز اسپتال میں پیش آنے والا سانحہ محض غفلت نہیں بلکہ مبینہ طور پر ایک سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

عاصمہ شیرازی کے مطابق والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے وارڈ کا دروازہ باہر سے بند تھا اور اس وقت کوئی شخص وہاں موجود نہیں تھا۔ والدین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اسپتال کا پورا عملہ ایک ہی وقت میں کیسے غائب ہوسکتا ہے؟

صحافی آمنہ جنجوعہ نے لکھا کہ ریسکیو ٹیمیں مبینہ طور پر آگ لگنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد پمز پہنچیں، پمز ہسپتال نیں اس وقت صف ماتم بچھا  ہے ، کل تک ہسپتال میں جو لوگ بچے کی پیدائش پر مٹھائیاں بانٹ رہے تھے اس وقت وہ دھاڑیں مار کر روتے ہوئے اپنے بچوں کی لاشیں مانگ رہے ہیں ، اس ملک  میں غریب کی خوشیاں بھی سسٹم نگل جاتا ہے۔

سینئر صحافی فہد حسین ، نصرت جاوید اور فریحہ ادریس نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس واقعے پر اپنی رائے کا اظہار کیا ۔

واقعے کے بعد انکوائری کمیٹیاں تشکیل دی جاچکی ہیں تاہم متاثرہ خاندانوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تحقیقات محض رسمی کارروائی تک محدود نہ رہیں بلکہ ذمہ داروں کا جلد تعین کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں کارروائی کی جائے۔

پمز کو وفاقی دارالحکومت کے بڑے اور اہم ترین سرکاری اسپتالوں میں شمار کیا جاتا ہے، اس لیے اس سانحے نے اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس، عملے کی دستیابی اور مریضوں کے تحفظ کے انتظامات پر بنیادی سوالات اٹھا دیے ہیں لیکن ان کا دیرپا درست حل کیلئے اب کام کرنے پر زور دیا جانا چاہیے ۔ صرف باتیں اور وعدے نہیں ۔

editor

Related Articles