سینئر صحافی وقار بھٹی نے آزاد ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پمز سانحے کو بنیادی طور پر انتظامی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دس ارب روپے کے خطیر بجٹ کے باوجود اس قسم کا سانحہ پیش آنا انتظامی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
پوڈ کاسٹ کے میزبان فرحان ورک سے گفتگو کرتے ہوئے وقار بھٹی نے کہا کہ پمز ہسپتال میں تقریباً 1200 اسامیاں خالی ہیں، جن پر کئی سال سے بھرتیاں نہیں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ان خالی اسامیوں پر بھرتیوں کی بات کی جاتی ہے تو کفایت شعاری کے اقدامات آڑے آجاتے ہیں۔
انہوں نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں کی نگرانی کرنے والی اتھارٹی کے بورڈ کے سربراہ ایک نجی ہسپتال کے مالک ہیں، جو ان کے بقول مفادات کے ٹکراؤ کا سب سے بڑا معاملہ ہے۔ وقار بھٹی نے دعویٰ کیا کہ بورڈ کے سربراہ کی قابلیت نائب وزیراعظم سے جان پہچان ہے۔
سینئر صحافی کے مطابق بورڈ کے ایک اور رکن کا اپنا ہارٹ کلینک ہے اور وہ صدر پاکستان کے معالج ہیں، جبکہ ایک ہومیو ڈاکٹر بھی بورڈ کا رکن ہے جو اسلام آباد کے ہسپتالوں کو ریگولیٹ کررہا ہے۔
وقار بھٹی نے کہا کہ جب تک ہسپتالوں میں میرٹ پر تعیناتیاں نہیں ہوں گی اور میرٹ کی بنیاد پر ذمہ داریاں تقسیم نہیں کی جائیں گی، صرف پیسے لگانے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔
انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ایک سینئر جو شعبے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں وہ وزیراعظم سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔ وقار بھٹی کے مطابق انہوں نے مذکورہ ڈاکٹر سے کہا کہ وزیراعظم سے پوچھیں کہ پمز کے حالات بہتر کیوں نہیں کیے جاتے۔ ان کے بقول ڈاکٹر نے بعد میں بتایا کہ وزیراعظم نے جواب میں ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ وہ پمز کے حالات بہتر نہیں کرسکتے۔
وقار بھٹی نے مزید دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں چار ارب ڈالر کی ادویات استعمال کی گئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ملک کے صحت کے شعبے میں سالانہ 10 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ ہوتی ہے۔ ان کے مطابق صحت کا شعبہ ایک بہت بڑا شعبہ ہے۔