صوبے بناؤ پاکستان بچاؤ، ایکس  پر مہم زور پکڑ گئی، نئے صوبوں کے حامی اور مخالفین آمنے سامنے

صوبے بناؤ پاکستان بچاؤ، ایکس  پر مہم زور پکڑ گئی، نئے صوبوں کے حامی اور مخالفین آمنے سامنے

ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث شدت اختیار کرتی جارہی ہے اور ’#صوبے_بناو_پاکستان_بچاو‘ سمیت گزشتہ کئی دنوں سے  صوبوں کے حق میں چلنے والے ہیش ٹیگز نے اس معاملے کو ایک بار پھر قومی سیاسی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ حکومتی صفوں میں بھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک میں 12 سے 15 نئے صوبے یا بااختیار ضلعی حکومتیں بنانے کی تجویز دی ہے، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حامی ہیں اور معاملہ عوام کی رائے پر چھوڑنے کی بات کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے بھی انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی حمایت کی ہے، جبکہ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال موجودہ ڈویژنز کو صوبوں میں تبدیل کرکے ملک میں 33 صوبوں تک کی تجویز دے چکے ہیں۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں، خصوصاً سندھ کی تقسیم، کی کھل کر مخالفت کردی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور، سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور دیگر رہنماؤں نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی ہے۔ سندھ اسمبلی بھی سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرچکی ہے، جبکہ فریال تالپور نے اسمبلی میں واضح طور پر سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی۔

وہیں دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی سب سے نمایاں حامی جماعتوں میں شامل ہے۔ ایم کیو ایم پی  کے رہنما خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور قومی سطح پر اس معاملے پر ڈائیلاگ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یوں ایک جانب حکومتی اراکین اور ایم کیو ایم کے رہنما نئے انتظامی یونٹس کو بہتر حکمرانی اور اختیارات کی منتقلی کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب پیپلز پارٹی اسے سندھ کی جغرافیائی وحدت، صوبائی خودمختاری اور آئینی ڈھانچے سے جوڑتے ہوئے سختی سے مسترد کر رہی ہے۔ یہی سیاسی تقسیم #صوبے_بناو_پاکستان_بچاو کے ٹرینڈ کو مزید اہمیت دے رہی ہے اور یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی وقت کی ضرورت ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے سندھ، پنجاب اور پاکستان کے مفاد میں ہیں، اس پر دو رائے نہیں: فواد چوہدری

سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پرکیا پاکستان کو موجودہ انتظامی ڈھانچے کے ساتھ چلانا کافی ہے یا ملک کو مزید صوبوں میں تقسیم کرنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے؟ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق یہ بحث زور پکڑ تی جارہی ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ہیش ٹیگ #صوبے_بناو_پاکستان_بچاو کا ہیش ٹیگ مسلسل ٹرینڈ کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا ٹرینڈز کی مانیٹرنگ کے مطابق #صوبے_بناو_پاکستان_بچاو گزشتہ کئی گھنٹوں سے ٹرینڈ لسٹ میں نمایاں ہے۔

نئے صوبوں کا مطالبہ پھر کیوں زیر بحث؟

پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ کوئی نیا معاملہ نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے مختلف علاقوں میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث جاری رہی ہے۔

نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ صوبوں کا وسیع رقبہ، بڑی آبادی اور انتظامی پیچیدگیاں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ ان کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے حکومتی ادارے عوام کے قریب ہوں گے اور مقامی مسائل کے حل میں تیزی آ سکتی ہے۔

’صوبے بناؤ پاکستان بچاؤ‘ کا نعرہ کیوں مقبول ہو رہا ہے؟

سوشل میڈیا پر اس ہیش ٹیگ کے ذریعے صارفین کی ایک بڑی تعداد انتظامی تقسیم کو پاکستان کے بہتر مستقبل سے جوڑ رہی ہے۔

حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کے بڑے صوبوں میں دور دراز علاقوں کے مسائل اکثر صوبائی دارالحکومتوں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پاتے۔ ان کے مطابق اگر نئے صوبے بنائے جائیں تو مقامی سطح پر انتظامی اختیار، بجٹ اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

ان کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں کا مقصد صرف نقشے پر نئی سرحدیں بنانا نہیں بلکہ اختیارات اور وسائل کو عوام کے قریب منتقل کرنا ہونا چاہیے۔

وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی اہم مسئلہ

نئے صوبوں کے قیام کی بحث میں وسائل کی تقسیم ایک بنیادی سوال بن کر سامنے آتی ہے۔

حامیوں کے مطابق بڑے صوبوں میں مختلف علاقوں کی معاشی ضروریات اور ترقی کی سطح ایک جیسی نہیں، اس لیے ایک ہی انتظامی یونٹ کے تحت تمام علاقوں کو یکساں توجہ دینا مشکل ہو سکتا ہے۔

چھوٹے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی صورت میں مقامی ضروریات کے مطابق بجٹ سازی اور ترقیاتی منصوبہ بندی ممکن ہونے کی دلیل دی جاتی ہے۔

کیا نئے صوبے معاشی مسائل حل کر سکتے ہیں؟

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن صرف صوبوں کی تعداد بڑھانا معاشی مشکلات کا مکمل حل نہیں۔ اس کے لیے مضبوط ادارے، بہتر گورننس، شفاف مالیاتی نظام، ٹیکس اصلاحات اور وسائل کے مؤثر استعمال سمیت متعدد اقدامات ضروری ہوں گے۔

نئے صوبے بننے کی صورت میں نئی اسمبلیوں، سیکریٹریٹس، انتظامی دفاتر اور دیگر حکومتی اداروں کے قیام کے باعث ابتدائی طور پر سرکاری اخراجات میں اضافے کا امکان بھی موجود ہوگا۔

نئے صوبے بنانے کا آئینی طریقہ کیا ہے؟

پاکستان میں نئے صوبے کا قیام محض انتظامی حکم کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے آئینی طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے۔

اس معاملے میں وفاقی اور متعلقہ صوبائی سطح پر سیاسی اتفاقِ رائے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی نئے صوبے کے قیام کے لیے آئین میں مقررہ طریقہ کار کے مطابق پارلیمانی کارروائی اور متعلقہ آئینی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہوگا۔

سوشل میڈیا سے پارلیمان تک؟

ہیش ٹیگ صوبے_بناو_پاکستان_بچاو کے مسلسل ٹرینڈ کرنے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر قومی سطح پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے یا نہیں۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے جہاں نئے صوبوں کو انتظامی مسائل، وسائل کی تقسیم اور عوامی سہولیات کی بہتری سے جوڑا جا رہا ہے، وہیں اس مطالبے کے ناقدین سیاسی، آئینی اور مالی پیچیدگیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

Related Articles