پاکستان نے افغان طلبہ کی ملک بدری سے متعلق صورتحال واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں زیرتعلیم افغان طلبہ پر مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ دفتر خارجہ سجاد حیدر خان کے مطابق جن طلبہ کے پاس درست ویزا موجود ہے اور وہ کسی تسلیم شدہ یونیورسٹی کے ڈگری پروگرام میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں، وہ پاکستان میں رہ کر اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ کی وضاحت
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سے میڈیکل کالجوں میں زیرتعلیم افغان طلبہ کو پاکستان چھوڑنے کی ہدایات سے متعلق سوال کیا گیا۔ترجمان نے واضح کیا کہ اگر کوئی افغان طالب علم پاکستان میں کسی ڈگری پروگرام میں زیرتعلیم ہے، اس کے پاس درست ویزا موجود ہے اور وہ یونیورسٹی کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ ہے تو اسے پاکستان میں رہنے اور اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت ہے۔
تاہم ایسے افغان شہری جو کسی یونیورسٹی یا تعلیمی پروگرام میں رجسٹرڈ نہیں یا جن کے پاس پاکستان میں قیام کے لیے درست ویزا موجود نہیں، ان کے حوالے سے حکومتی پالیسی اور متعلقہ احکامات لاگو ہوں گے۔
ویزا کے مقصد کی پابندی
ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے جاری کیا جانے والا ویزا مخصوص مقصد کے تحت ہوتا ہے اور ویزا رکھنے والا شخص اسی مقصد کے مطابق سرگرمی انجام دے سکتا ہے جس کے لیے اسے اجازت دی گئی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی افغان طالب علم کو میڈیکل کی تعلیم کے لیے پاکستان میں قیام کی اجازت حاصل ہے تو اس کے لیے بنیادی طور پر یہ دیکھا جائے گا کہ اس کے پاس درست ویزا ہے یا نہیں اور وہ کسی منظور شدہ یونیورسٹی یا ڈگری پروگرام میں رجسٹرڈ ہے یا نہیں۔
پی ایم ڈی سی کا حکم نامہ
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے ملک کی سرکاری اور نجی میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجوں کو ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔یکم ستمبر کو جاری کیے گئے حکم نامے میں پاکستان میں زیرتعلیم افغان طلبہ کے حوالے سے متعلقہ تعلیمی اداروں کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
پی ایم ڈی سی کی جانب سے میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجوں سے کہا گیا تھا کہ افغان طلبہ کو پالیسی کے مطابق ضروری اجازت نامے فراہم کرنے کے ساتھ ان کی وطن واپسی کے لیے بھی معاونت کی جائے۔
مختلف سالوں کے طلبہ متاثر
اس فیصلے کے تحت افغانستان واپس جانے کی ہدایت پانے والے طلبہ میں ایم بی بی ایس کے مختلف سالوں میں زیرتعلیم طلبہ اور طالبات شامل ہیں[ان میں ایم بی بی ایس کے پہلے سال سے لے کر فائنل ایئر تک کے طلبہ شامل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث متعدد طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے سوالات پیدا ہوئے۔
پی ایم ڈی سی کا مؤقف
پی ایم ڈی سی کے حکام کے مطابق متعلقہ حکم نامہ حکومتی ہدایات اور پالیسی کے تحت جاری کیا گیا ہے اور ملک بھر کے سرکاری و نجی میڈیکل اداروں کو اس پر عمل کرنا ہوگا۔
تاہم دفتر خارجہ کی تازہ وضاحت کے بعد معاملے کا ایک اہم پہلو سامنے آیا ہے کہ درست ویزا اور یونیورسٹی میں باقاعدہ رجسٹریشن رکھنے والے افغان طلبہ کے لیے صورتحال ان طلبہ سے مختلف ہے جو بغیر ویزا یا بغیر کسی تعلیمی ادارے میں رجسٹریشن کے پاکستان میں موجود ہیں۔
پاک افغان تعلقات کا معاملہ
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پاک افغان تعلقات سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی اور پرانے تعلقات ہیں اور افغانستان پاکستان کے لیے دشمن ریاست نہیں ہے۔
ترجمان کے مطابق اس وقت بنیادی مسئلہ دہشت گردی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود موجودہ حکومت کو پاکستان کی سلامتی سے متعلق حساسیت کو سمجھنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی نہیں آتی، دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی مشکل رہے گی۔