قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ملک بھر میں غیر معیاری موبائل سروس اور انٹرنیٹ کنیکٹویٹی کے مسائل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹیلی کام کمپنیوں کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی سید امین الحق کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں غیر معیاری موبائل سروس اور انٹرنیٹ کنیکٹویٹی کے معاملے پر گفتگو کی گئی۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک بھر میں غیر معیاری موبائل سروس کا مسئلہ نمٹانا ضروری ہے، موبائل سروس کا معیار بہتر بنانا بہت زیادہ ضروری ہے، ایک کال کرنے کے لیے تین مرتبہ کال کرنی پڑتی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام نے اعتراف کیا کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ کے معیار اور موبائل سروس کے مسائل موجود ہیں۔
پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ 6 ماہ میں ٹیلی کام کمپنیوں کو 4 شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ گزشتہ چند سال کے دوران ٹیلی کام کمپنیوں کو 48 شوکاز نوٹس اور 22 وارننگ لیٹر جاری کیے گئے۔ ٹیلی کام کمپنیوں پر 68.9 ملین روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق پی ٹی اے ٹیلی کام کمپنیوں پر زیادہ سے زیادہ 350 ملین روپے کا جرمانہ عائد کرسکتی ہے۔
رکن کمیٹی احمد عتیق نے کہا کہ ملک کے 70 فیصد علاقوں میں موبائل سروس کا مسئلہ ہے۔
ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ یوفون کی سروس تو بالکل ہی کام نہیں کرتی، جبکہ رکن کمیٹی شازیہ فرید نے کہا کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز میں موبائل سروس بالکل غیر معیاری ہے اور موبائل سروس سے کالز تک نہیں ہوسکتیں۔
سیکریٹری وزارت آئی ٹی ضرار ہاشم خان نے کہا کہ غیر معیاری موبائل سروس کی ایک وجہ آلات اور ساز و سامان کا معیاری نہ ہونا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے الیکٹرک اور وزارت آئی ٹی کی ایک کمیٹی بنائی گئی تھی تاکہ یہ جائزہ لیا جاسکے کہ لوڈشیڈنگ سے ٹاورز کو کس طرح بچایا جاسکتا ہے۔
سیکریٹری وزارت آئی ٹی نے کہا کہ لوڈشیڈنگ سے صرف بجلی نہیں جاتی بلکہ کاروبار بھی متاثر ہوتے ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں جاز، زونگ اور یوفون کے نمائندگان کو طلب کرلیا۔