سابق گورنر پنجاب اور معروف سیاسی رہنما چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے، ملک میں حقیقی جمہوری کلچر اس وقت تک مضبوط نہیں ہوسکتا جب تک سیاسی جماعتوں میں عام کارکن کو آگے بڑھنے کے مواقع اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے جمہوری نظام میں عام ورکر اور پیشہ ور افراد بھی اپنی صلاحیت کی بنیاد پر سیاست میں آگے آسکتے ہیں، جبکہ پاکستان میں خاندانی سیاست اور مرکزی اختیارات نے عام سیاسی کارکن کا راستہ محدود کردیا ہے۔
چوہدری محمد سرور نے یہ گفتگو آزاد ڈیجیٹل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کی، جس میں انہوں نے پاکستان اور برطانیہ کے سیاسی نظام، بلدیاتی اداروں، نئے صوبوں، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کلچر، معاشی مسائل، 18ویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور اپنے فلاحی کاموں سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
سیاسی ورکرز کا کردار
چوہدری محمد سرور نے گفتگو کے آغاز میں سیاسی کارکنوں اور جمہوری نظام کے بنیادی ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں سیاسی ورکر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے سیاسی نظام میں ایک عام کارکن پارٹی کے اندر محنت کرتے ہوئے مقامی سطح سے قومی سطح تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ پاکستان میں عام کارکن کو اکثر صرف انتخابی مہمات اور جلسوں تک محدود رکھا جاتا ہے۔
پاکستان کا سیاسی نظام
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی نظام کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نچلی سطح پر قیادت کو آگے آنے کے مواقع نہیں ملتے،ان کا کہنا تھا کہ جب سیاسی جماعتوں میں فیصلے محدود افراد یا خاندانوں کے ہاتھ میں ہوں تو عام کارکن کے لیے اپنی صلاحیت ثابت کرکے قیادت تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔
انس سرور کی کامیابی
چوہدری محمد سرور نے اپنے بیٹے انس سرور کی برطانوی حکومت میں اہم ذمہ داری پر بھی اظہار مسرت کیا،انہوں نے کہا کہ انس سرور کا اہم حکومتی عہدے تک پہنچنا اس بات کی مثال ہے کہ جمہوری نظام میں میرٹ اور صلاحیت کی بنیاد پر لوگوں کو ذمہ داریاں دی جاسکتی ہیں۔
میرٹ کا نظام
چوہدری سرور کے مطابق برطانیہ میں کسی عہدے کے لیے درست شخص کا انتخاب اور میرٹ کو اہمیت دینا جمہوری نظام کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے،انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ذمہ داریاں ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے قابلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر دی جائیں۔
برطانیہ اور پاکستان
انہوں نے برطانیہ اور پاکستان کے سیاسی نظام کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں عام شہری، سیاسی کارکن اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز سیاست میں آگے آتے ہیں، وہاں کسی شخص کا سیاسی پس منظر نہ ہونا لازمی طور پر رکاوٹ نہیں بنتا بلکہ مسلسل سیاسی سرگرمی، کارکردگی اور عوامی اعتماد کے ذریعے آگے بڑھنے کے مواقع موجود رہتے ہیں۔
لیبر پارٹی کا کلچر
چوہدری سرور نے برطانوی لیبر پارٹی کے سیاسی کلچر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں عام کارکنوں کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں نچلی سطح کے کارکن کو مضبوط کرنا جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہی کارکن عوام کے مسائل سے براہ راست واقف ہوتے ہیں۔
پاکستانی ورکرز کے مسائل
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں عام سیاسی کارکن کو وہ اہمیت نہیں ملتی جو جمہوری نظام میں ملنی چاہیے،ان کا کہنا تھا کہ کارکن برسوں سیاسی جدوجہد کرتے ہیں لیکن فیصلہ سازی اور اہم عہدوں تک رسائی اکثر محدود حلقوں تک رہتی ہے۔
خاندانی سیاست
چوہدری محمد سرور نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اندر خاندانی کنٹرول جمہوری کلچر کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے،انہوں نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو اندرونی جمہوریت مضبوط کرنا ہوگی تاکہ کارکنوں کو آگے آنے اور قیادت میں حصہ لینے کے مساوی مواقع مل سکیں۔
اپنے ماضی کی یادیں
چوہدری سرور نے اپنے سیاسی سفر کے ساتھ ساتھ اپنے ماضی کو بھی یاد کیا، انہوں نے اپنے گاؤں میں ابتدائی تعلیم اور محنت و جدوجہد کے دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے زندگی میں مختلف مراحل محنت کے ذریعے طے کیے،انہوں نے کہا کہ انسان اگر مستقل مزاجی اور محنت سے کام کرے تو محدود وسائل کے باوجود آگے بڑھ سکتا ہے۔
بنیادی سیاسی اصلاحات
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صرف وقتی سیاسی تبدیلیوں کی نہیں بلکہ بنیادی اور ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے،چوہدری سرور کے مطابق سیاسی نظام، بلدیاتی اداروں، اختیارات کی تقسیم اور حکومتی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں ضروری ہیں جن سے عام شہری کو براہ راست فائدہ پہنچے۔
79 سال کا سوال
چوہدری محمد سرور نے ملک میں مؤثر بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قیام کو 79 سال گزر چکے ہیں لیکن ملک میں مسلسل اور فعال بلدیاتی نظام قائم نہیں رہ سکا،انہوں نے کہا کہ جمہوریت صرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عام شہری کو اپنے علاقے کے فیصلوں میں براہ راست شریک کرنا ضروری ہے۔
اختیارات کی منتقلی
انہوں نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیارات اور وسائل دیے جائیں،ان کے مطابق جب تک مقامی حکومتوں کو بااختیار نہیں بنایا جاتا، عام شہری کے بنیادی مسائل حل کرنے میں مشکلات برقرار رہیں گی۔
ترقیاتی فنڈز پر تنقید
چوہدری سرور نے ارکان اسمبلی کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے، ان کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی کا بنیادی کام قانون سازی، پالیسی سازی اور عوام کی نمائندگی ہونا چاہیے۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسمبلی اراکین اپنی بنیادی ذمہ داری چھوڑ کر ترقیاتی کاموں کے فنڈز کے حصول اور استعمال میں زیادہ دلچسپی لیں گے تو قانون سازی اور جمہوری نگرانی متاثر ہوگی،چوہدری سرور نے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو پاکستان کے مسائل کا اہم حل قرار دیا،انہوں نے کہا کہ اختیارات کا مرکز میں ارتکاز ختم ہونا چاہیے اور مقامی حکومتوں کو فیصلہ سازی میں حقیقی کردار دیا جانا چاہیے۔
نئے صوبوں کی ضرورت
نئے صوبوں کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی بحث کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیے،ان کے مطابق جنوبی پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں محرومیوں کی شکایات موجود ہیں اور ان کا حل سیاسی وعدوں کے بجائے عملی اقدامات سے نکالا جانا چاہیے۔
مشرف دور کا نظام
چوہدری سرور نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں قائم کیے گئے بلدیاتی نظام کا بھی حوالہ دیا اور اس کی بعض خصوصیات کا موجودہ نظام سے موازنہ کیا،ان کا کہنا تھا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا تصور اپنی جگہ اہم ہے، تاہم مستقل اور جمہوری بنیادوں پر بلدیاتی اداروں کا تسلسل ضروری ہے۔
سکاٹ لینڈ کی مثال
چوہدری سرور نے سکاٹ لینڈ کے رفرنڈم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عوامی رائے کو اہمیت دینا جمہوری نظام کی بنیادی روح ہے،انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں لیبر پارٹی کی جانب سے سکاٹ لینڈ میں رفرنڈم کا وعدہ کیا گیا اور بعد میں اس پر عملدرآمد بھی ہوا، جو عوامی مینڈیٹ کے احترام کی مثال ہے۔
جنوبی پنجاب کا صوبہ
جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے مطالبے پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو صرف سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے عوام کی رائے معلوم کی جانی چاہیے،ان کے مطابق اگر جنوبی پنجاب کے عوام واقعی الگ صوبہ چاہتے ہیں تو ان کی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم سمیت جمہوری طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔
عوامی رائے کا احترام
انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کا فیصلہ عوام کی خواہشات اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے،چوہدری سرور کے مطابق سندھ، بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی عوام کے حقوق اور محرومیوں سے متعلق مطالبات موجود ہیں، جنہیں سیاسی تنازعات کے بجائے جمہوری طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
بڑے رہنماؤں کے ساتھ کام
چوہدری محمد سرور نے اپنے سیاسی سفر کے دوران نواز شریف، بینظیر بھٹو شہید اور آصف علی زرداری سمیت مختلف بڑے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ کام کرنے کے تجربات بھی بیان کیے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ادوار کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے سیاسی نظام، حکمرانی اور فیصلہ سازی کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
مرکزی اختیارات
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں میں اختیارات مرکز میں رکھنے کا رجحان رہا ہے، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ سمیت اعلیٰ سطح کی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مضبوط حکومت وہ نہیں جو تمام اختیارات اپنے پاس رکھے بلکہ مضبوط نظام وہ ہے جس میں ذمہ داری اور اختیار مناسب سطح پر تقسیم ہوں۔
وزراء کی خودمختاری
چوہدری سرور نے برطانوی کابینہ کے نظام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں وزراء کو اپنے محکموں میں ذمہ داری اور اختیار دیا جاتا ہے،انہوں نے کابینہ میں تبدیلیوں اور وزراء کی کارکردگی کے جائزے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی کارکردگی کی بنیاد پر وزراء کا احتساب ہونا چاہیے۔
مدت چار سال کرنے کی تجویز
انہوں نے تجویز دی کہ قومی، صوبائی اور بلدیاتی اداروں کی مدت چار سال ہونی چاہیے تاکہ حکومتوں اور نمائندوں کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے مناسب وقت مل سکے،ان کے مطابق مسلسل سیاسی تبدیلیاں اور غیر یقینی صورتحال حکومتی پالیسیوں کے تسلسل کو متاثر کرتی ہیں۔
این ایف سی ایوارڈ
ملکی معاشی صورتحال اور این ایف سی ایوارڈ پر گفتگو کرتے ہوئے چوہدری سرور نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے معاملے کو باہمی مشاورت سے حل کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کے پاس قرضوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں کی وجہ سے وسائل محدود ہیں، اس لیے تمام اکائیوں کو مل کر قابل عمل مالی نظام تشکیل دینا ہوگا۔
پروونشل فائنانس کمیشن
چوہدری سرور نے ہر ڈویژن اور نچلی سطح تک وسائل کی تقسیم کے لیے پروونشل فائنانس کمیشن کے تصور کی حمایت کی ان کا کہنا تھا کہ جس طرح وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم ضروری ہے، اسی طرح صوبوں کے اندر بھی وسائل منصفانہ انداز میں تقسیم ہونے چاہئیں۔
18ویں ترمیم
18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اختیارات کی تقسیم کے ساتھ مالی اور انتظامی ذمہ داریوں کو بھی واضح کرنا ضروری ہے،انہوں نے صوبوں اور وفاق کے درمیان باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کو مسائل کے حل کے لیے بنیادی ضرورت قرار دیا۔
حکمرانوں کو مشورہ
چوہدری سرور نے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کو مشورہ دیا کہ بلدیاتی اداروں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جائے، اگر مقامی نمائندوں کو اختیار، وسائل اور ذمہ داری دی جائے تو عوام کے بنیادی مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جاسکتے ہیں۔
بینظیر بھٹو کی یادیں
چوہدری سرور نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور سیاسی جدوجہد کی یادیں بھی تازہ کیں،انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو سیاسی بصیرت رکھنے والی رہنما تھیں اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ان کا عزم مضبوط تھا۔
پاکستان واپسی کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں قیام کے دوران بینظیر بھٹو کو پاکستان واپسی کے حوالے سے سکیورٹی خدشات اور خطرات سے آگاہ کیا گیا تھا،تاہم ان کے مطابق محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کی بحالی کے عزم کے تحت پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
جمہوریت کے لیے جدوجہد
چوہدری سرور نے یورپ میں بینظیر بھٹو کے ساتھ جمہوریت کی بحالی کے لیے کی جانے والی سیاسی جدوجہد کا بھی ذکر کیا،انہوں نے کہا کہ بیرون ملک رہتے ہوئے بھی پاکستان میں جمہوری نظام کی بحالی کے لیے مختلف سطحوں پر سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں۔
نواز شریف سے تعلق
چوہدری سرور نے نواز شریف کی سعودی عرب سے واپسی اور ان کے ساتھ اپنے تعلقات کا بھی ذکر کیا،انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی ادوار میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اور اختلافات دونوں جمہوری سیاست کا حصہ رہے ہیں۔
پولیس اور انتظامی اصلاحات
پاکستان اور برطانیہ کے پولیس و انتظامی نظام کا موازنہ کرتے ہوئے چوہدری سرور نے کہا کہ پاکستان میں ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے،انہوں نے تفتیشی نظام کو بہتر بنانے اور پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرکے پیشہ ورانہ بنیادوں پر مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وی آئی پی کلچر
چوہدری سرور نے پاکستان میں وی آئی پی کلچر اور غیر ضروری پروٹوکول کے خاتمے پر بھی زور دیا،ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی، وزراء اور بااثر شخصیات کے لیے غیر معمولی پروٹوکول کے بجائے عام شہری کو ریاستی سہولت اور سکیورٹی فراہم کرنے پر توجہ ہونی چاہیے۔
سکیورٹی کا معیار
انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کی سکیورٹی اور وزراء یا دیگر اہم شخصیات کے نجی سکیورٹی انتظامات میں واضح فرق ہونا چاہیے،ان کے مطابق ریاستی وسائل کا استعمال ضرورت اور عوامی مفاد کے مطابق ہونا چاہیے۔
پاک فوج اور دفاع
ملکی دفاع کے حوالے سے چوہدری سرور نے پاک فوج کے کردار کو اہم قرار دیا اور کہا کہ ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے مضبوط اداروں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دفاعی معاملات کے ساتھ ساتھ ملکی اندرونی مسائل، معیشت اور عوامی مشکلات کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔
عالمی صورتحال
ایران اور امریکا کے درمیان تنازع اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے چوہدری سرور نے کہا کہ پاکستان کو عالمی معاملات پر نظر رکھتے ہوئے اپنی داخلی صورتحال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تاثر اسی وقت مضبوط ہوگا جب ملک کے اندر سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور ادارہ جاتی اصلاحات ہوں گی۔
اندرونی مسائل اہم
چوہدری سرور نے زور دیا کہ حکومت کو عالمی معاملات کے ساتھ ساتھ مہنگائی، روزگار، تعلیم، صحت اور معیشت جیسے عوامی مسائل پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے،پاکستان کے مستقبل کا انحصار مضبوط معیشت اور مؤثر حکمرانی پر ہے۔
سرور فاؤنڈیشن کی خدمات
چوہدری محمد سرور نے اپنے فلاحی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سرور فاؤنڈیشن کے ذریعے صاف پانی اور صحت کے شعبے میں خدمات انجام دی جارہی ہیں،انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی اور صحت کی سہولیات عام انسان کی بنیادی ضرورت ہیں، اسی لیے فلاحی سرگرمیوں میں ان شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔
تعلیم اور ہنر
انہوں نے بتایا کہ فاؤنڈیشن کی جانب سے تعلیم اور وکیشنل ٹریننگ کے مختلف منصوبوں پر بھی کام کیا جارہا ہے،ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو صرف تعلیم دینا کافی نہیں بلکہ انہیں روزگار کے قابل بنانے کے لیے عملی ہنر فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
خواتین کی خودمختاری
چوہدری سرور کے مطابق ہزاروں لڑکیوں کو ہنر مند بنانے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے منصوبوں پر کام کیا گیا ہے،انہوں نے بتایا کہ تقریباً 35 ہزار لڑکیوں کو ہنر مند بنانے کا اقدام خواتین کی معاشی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
خدمت زندگی کا مقصد
چوہدری سرور نے کہا کہ زندگی کا اصل مقصد انسانیت کی خدمت ہونا چاہیے،انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنی زندگی کے باقی حصے میں بھی فلاحی اور عوامی خدمت کے کاموں کو جاری رکھیں گے اور صحت، تعلیم، صاف پانی اور روزگار کے منصوبوں پر توجہ دیتے رہیں گے۔
یوکے پاکستان کانفرنس
انٹرویو میں برطانیہ اور پاکستان کے درمیان آئندہ سال مشترکہ کانفرنس کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی،چوہدری سرور نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور عوامی روابط بڑھانے کے لیے ایسے اقدامات اہم ہیں۔
سیاسی اصلاحات ناگزیر
چوہدری محمد سرور کی گفتگو کا بنیادی نکتہ یہ رہا کہ پاکستان کو مضبوط جمہوری نظام کے لیے محض حکومتیں تبدیل کرنے کے بجائے نظام میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی، عام سیاسی کارکن کو آگے آنے کا موقع، بلدیاتی اداروں کو اختیار، وسائل کی منصفانہ تقسیم، میرٹ پر فیصلے، اداروں کی خودمختاری اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کلچر ہی وہ عوامل ہیں جو پاکستان کے سیاسی اور معاشی نظام کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔