نئے صوبے سندھ، پنجاب اور پاکستان کے مفاد میں ہیں، اس پر دو رائے نہیں: فواد چوہدری

نئے صوبے سندھ، پنجاب اور پاکستان کے مفاد میں ہیں، اس پر دو رائے نہیں: فواد چوہدری

سابق وفاقی وزیر  فواد چوہدری نے کہا کہ اگر وہ حکومت کو مشورہ دے رہے ہوتے تو ان کی خواہش ہوتی کہ 27 سے پہلے ہی معاملہ حل کرلیا جائے، کیونکہ 27 کو لاکھوں لوگ نہ بھی نکلیں تو مسئلہ نہیں، حکومت اتنی کمزور ہے کہ ایک لاکھ یا سوا لاکھ افراد بھی نکل آئیں تو اسے سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے اور حکومت کی’’کانپیں ٹانگ جاتی ہیں‘‘ ۔

آزاد سیاست پوڈ کاسٹ میں سلمان درانی کے ساتھ گفتگو  کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ طاقت میں موجود لوگ اپنے مخالف کو ہر وقت کچلنا چاہتے ہیں اور یہ سوچ پیدا ہوجاتی ہے کہ مخالف نے 27 تاریخ کو آنے کی بات کیسے کی۔ ان کے مطابق رانا ثناء اللہ کے بیان سے فاصلوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، حالانکہ پاکستان تحریک انصاف، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے کم کرنا اتنا مشکل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوٹ لکھپت کے لوگوں اور قیدیوں کو ریلیف دے کر بات کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔

سندھ کی تقسیم اور پیپلز پارٹی کا مؤقف

سندھ میں نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے مؤقف کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ فریال تالپور کی تقریر سے پیپلز پارٹی کے حقیقی کارکن کو بڑی مایوسی ہوگی، کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے سندھ کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست کے لیے قربانیاں دیں۔

ان کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار پنجاب نے دیا تھا جبکہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے وقت تک وہ چاروں صوبوں کی زنجیر سمجھی جاتی تھیں اور وفاقی سیاست کرتی رہی تھیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ آصف زرداری، بلاول بھٹو اور فریال تالپور نے پیپلز پارٹی کو ایک سندھی قوم پرست جماعت کے طور پر آگے بڑھایا ہے۔ ان کے مطابق 1970 کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو بھٹو صاحب کا عروج قوم پرستوں کے خلاف تھا اور وہ قومی رہنما تھے، جبکہ پیپلز پارٹی ایک قومی جماعت تھی جسے لاہور میں بنایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مبشر حسن، جے اے رحیم اور دیگر افراد نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ پیپلز پارٹی اس مقام تک پہنچے گی جہاں سارا پیسہ دبئی رکھا جائے گا، منی لانڈرنگ ہوگی اور جائیدادیں بیرون ملک ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: جمہوری نظام کے استحکام کیلئے تمام جماعتیں مل کر کردار ادا کریں ، اختیار ولی

فواد چوہدری نے کہا کہ اگر سندھ کو ماں کہا جاتا ہے تو پھر ماں کی خدمت بھی کرنی چاہیے، صرف یہ نہیں کہ پیسہ دبئی، آسٹریلیا اور دیگر مقامات پر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سندھ کو بہت تبدیل کردیا ہے، لیکن سندھ کے حوالے سے لوگوں کا تاثر مختلف ہے اور انہیں خود جاکر دیکھنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اور فریال تالپور نے تقریباً 17، 18 سال سے آزادانہ طور پر کراچی میں کوئی تحریک نہیں چلائی، جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ جس طرح مشہور تھا کہ ایوب خان کے لیے الگ اخبار چھپتا تھا، اسی طرح ان کے لیے بھی الگ سندھ ہو۔

مراد علی شاہ پر بھی تنقید

فواد چوہدری نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی سیاست میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کا تعلیمی پس منظر دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اصل مایوسی مراد علی شاہ سے ہوتی ہے کہ اتنا پڑھا لکھا شخص بھی اس طرح کی باتیں کرے۔ ان کے مطابق کراچی میں ہاکس بے جیسی خوبصورت جگہ موجود ہے جو دبئی سے کم نہیں، لیکن اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

نئے صوبوں کو ڈیولوشن کا ذریعہ قرار دیا

نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ صوبے بننا سندھ، پنجاب اور پاکستان کے مفاد میں ہے اور اس پر دو رائے نہیں ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق صوبے کا مطلب اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، یعنی ڈیولوشن آف پاور ہے، جو پورے ملک کی طرح سندھ کے لیے بھی اہم ہے۔ ان کا سوال تھا کہ بدین، ٹھٹھہ، میرپور، لاڑکانہ اور عمرکوٹ کے شہری اختیارات میں کتنے شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی نہیں ہوگی، مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اسمبلی کیجانب سے متنازع بل منظور کیا گیا ،صوبائی حکومت اسے واپس لے، اختیار ولی

انتظامی، سیاسی اور مالی اختیارات الگ معاملات

نئے صوبوں کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ انتظامی، سیاسی اور مالی اختیارات تین الگ چیزیں ہیں۔

ان کے مطابق اگر صرف مالی اختیارات منتقل کرنے ہیں تو بلدیاتی حکومت کافی ہے، جہاں منتخب میئر کے پاس ضلع کے وسائل ہوں۔ تاہم اگر انتظامی اور سیاسی اختیارات بھی منتقل کرنے ہیں تو صوبہ بنانا پڑے گا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر بدین کو الگ انتظامی یونٹ بنایا جائے تو کمشنر اور ایس پی کون مقرر کرے گا؟ اگر مالی اختیار دے بھی دیا جائے لیکن افسران مقرر کرنے کا اختیار اوپر ہی رہے تو انتظامی اختیار منتقل نہیں ہوا۔

اسی طرح اسمبلی کی قانون سازی کا اختیار بھی منتقل کرنا ہوگا، ورنہ سیاسی اختیار کی منتقلی ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے ہزارہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہزارہ انتظامی یونٹ ہو لیکن وہاں قانون سازی پشاور سے ہو تو یہ مکمل سیاسی اختیار کی منتقلی نہیں ہوگی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اگر نئے صوبے بنانے ہیں تو آئین کے تقریباً 190 آرٹیکلز میں ترمیم کرنا پڑے گی، جبکہ آئین میں مجموعی طور پر تقریباً 280 آرٹیکلز ہیں۔ ان کے مطابق اس معاملے پر اتفاقِ رائے حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے مؤقف کا ذکر

فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف اس معاملے پر خاموش نہیں بلکہ اسحاق ڈار کے ذریعے بنیادی طور پر اور جزوی طور پر مریم نواز کے ذریعے اپنی رائے پہنچا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ نواز شریف کا صوبوں کے حوالے سے وہی خیال ہے جو ان کا ہے۔ فواد چوہدری کے مطابق مولانا فضل الرحمان غیر سنجیدہ شخص نہیں اور وہ جو بات کرتے ہیں، اس کا مطلب ہوتا ہے کہ نواز شریف سے ان کا رابطہ ہوا ہے۔

ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک ہی صفحے پر ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اس وقت نئے صوبوں کے قیام میں اسٹیبلشمنٹ کی بنیادی رکاوٹ یہ ہے کہ اس کی دونوں اتحادی جماعتیں، یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، اس تجویز کے خلاف ہیں، جبکہ واحد جماعت جو حقیقتاً صوبوں کے حق میں ہے وہ عمران خان اور پی ٹی آئی ہے۔

متبادل تجویز: موجودہ صوبوں کو برقرار رکھتے ہوئے سب پروونسز

فواد چوہدری نے نئے صوبوں کے معاملے میں ایک متبادل تجویز بھی پیش کی۔ ان کے مطابق موجودہ صوبوں کو برقرار رکھا جائے، ان کے اوپر ایک گورنر ہو، جبکہ اسمبلیاں نیچے منتقل کردی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طریقے سے چار یا پانچ سب پروونسز بنائے جاسکتے ہیں، جن کے اپنے وزرائے اعلیٰ اور اسمبلیاں ہوں گی۔ ان کے بقول اس سے شناخت بھی متاثر نہیں ہوگی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی ہوسکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے معاملے میں بنیادی مسئلہ ڈیولوشن نہیں بلکہ شناخت ہے۔ لوگ سندھی، پنجابی، ہزارہ، پختون اور بلوچ شناخت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اس لیے شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اختیارات کی منتقلی کا طریقہ نکالنا ہوگا۔

اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی مخالفت

فواد چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے علاوہ باقی تمام علاقوں میں نئے صوبے بنانا اچھا خیال ہے، تاہم اسلام آباد کو صوبہ بنانا ’’احمقانہ بات‘‘ ہوگی۔

ان کے مطابق اس سے دارالحکومت میں انتظامی اور آئینی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے دہلی کی مثال دیتے ہوئے اروند کیجریوال اور نریندر مودی کے درمیان اختیارات کے تنازعے کا حوالہ دیا۔

ریفرنڈم کی تجویز پر سوالات

نئے صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کی تجویز پر فواد چوہدری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 48 میں ریفرنڈم کی گنجائش موجود ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ ریفرنڈم کی مہم کون چلائے گا۔

ان کے مطابق اگر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی اس خیال کی حمایت نہ کریں تو ریفرنڈم کی مہم کیسے چلائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ریفرنڈم کرایا جائے گا تو 1970 کی طرز کا ریفرنڈم ہی ہوگا اور پھر وہی فارم استعمال کرنا پڑے گا۔

پی ٹی آئی کو اعتماد میں لینے پر زور

فواد چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے میں پی ٹی آئی کو آن بورڈ لینے کی بظاہر کوشش نہیں کی گئی، جبکہ اس وقت پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے اور یہ معاملہ ذاتی مسئلہ بن چکا ہے۔

ان کے مطابق عمران خان کا اصل میں یہ خیال رہا ہے کہ ہر ڈویژن کو صوبہ بنایا جائے، اس لیے نئے صوبوں کے معاملے میں پی ٹی آئی کی حمایت حاصل کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

عمران خان سے ملاقاتوں کی رپورٹس

فواد چوہدری نے سابق آرمی چیف سے عمران خان کی ملاقات، انہیں کیک پیش کیے جانے، معاملات آگے بڑھنے، ذلفی بخاری کے رائٹرز کو بیان دینے اور عمران خان کی بہنوں سے ملاقات کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ چیزیں آگے بڑھی ہیں۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس ذاتی معلومات نہیں کہ ملاقات میں کیا بات ہوئی یا کس کی ملاقات کرائی گئی۔

انہوں نے جنرل لودھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل لودھی سنجیدہ اور ذمہ دار شخص ہیں اور عام طور پر غیر ذمہ دارانہ بات نہیں کرتے، اس لیے ان کی جانب سے ایسی بات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

27 تاریخ اور حکومت کو مشورہ

فواد چوہدری نے کہا کہ طاقت میں موجود لوگوں کا رجحان ہوتا ہے کہ وہ مخالف کو ہر وقت دبانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن پی ٹی آئی اور حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے کم کیے جاسکتے ہیں۔

ان کے مطابق اگر حکومت قیدیوں کو ریلیف دے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ حکومت کو مشورہ دے رہے ہوتے تو 27 سے پہلے معاملہ حل کرنے کی کوشش کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ 27 کو لاکھوں افراد نہ بھی نکلیں، تب بھی ایک لاکھ یا سوا لاکھ افراد کا نکلنا حکومت کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ حکومت اتنی کمزور ہے کہ ایسی صورتحال سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔

سہیل آفریدی کی سیاسی سرگرمیاں

فواد چوہدری نے سہیل آفریدی کی سرگرمیوں کے حوالے سے کہا کہ وہ کافی محنت کررہے ہیں، ہر جگہ کوشش کررہے ہیں اور ان کی ٹیم بھی کام کررہی ہے، تاہم ان کے خیال میں اس چیلنج کے لیے جس سیاسی قد کی ضرورت ہے، وہ چیلنج سہیل آفریدی کے قد سے بڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سہیل آفریدی کا قصور نہیں، انہوں نے اپنی طرف سے بھرپور محنت کی ہے، لیکن چیلنج ان کے سیاسی قد سے بڑا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ سہیل آفریدی پہلی مرتبہ آئی ایس ایف سے آئے ہیں اور ان کا سندھ جانا بھی اس حوالے سے سوال پیدا کرتا ہے کہ اصل توجہ پنجاب کو متحرک کرنے اور لاہور آنے پر ہونی چاہیے تھی، لیکن انہیں لاہور آنے نہیں دیا جارہا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ جانے کی اجازت بھی کسی پارٹی نے دی اور نہ ہی بلاول بھٹو نے، تاہم بلاول بھٹو نے اس حوالے سے ٹویٹ کیا تھا۔

پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں تبدیلی

فواد چوہدری نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پر پی ٹی آئی کے ارکان نے اجتناب کیا، جس سے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی کچھ نرمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اب پہلے کی طرح اسٹیبلشمنٹ پر تنقید نہیں کررہی اور اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے پی ٹی آئی کی پالیسی 100 فیصد تبدیل ہوچکی ہے۔

تاہم انہوں نے اس تبدیلی کو ’’ڈیل‘‘ قرار دینے کے بجائے ’’انگیجمنٹ‘‘ کی ضرورت قرار دیا۔

فواد چوہدری کے مطابق اگر پی ٹی آئی فوج کے ساتھ مل کر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو یہ ڈیل ہوگی، جو ان کے نزدیک مناسب نہیں۔ لیکن اگر پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت تمام فریقین کے ساتھ رابطہ رکھے تو یہ انگیجمنٹ ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو ڈیل نہیں کرنی چاہیے، لیکن 100 فیصد انگیجمنٹ کرنی چاہیے۔

سیاسی درجہ حرارت کم کرنے پر زور

فواد چوہدری نے کہا کہ گزشتہ چار سال میں پی ٹی آئی کو ختم کرنے اور عمران خان کو توڑنے کی کوششیں کی گئیں لیکن کامیاب نہیں ہوئیں، جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی اور عمران خان بھی حکومت گرانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق اس پورے تنازعے میں نقصان پاکستان اور پاکستانی عوام کا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب فیصلہ ساز اتنے بڑے عہدوں پر ہوتے ہیں تو ان کے فیصلے لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے تمام فریقین کو اپنی اپنی پوزیشن کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت 100 فیصد کم ہونا چاہیے۔

بیرون ملک پیسے کے حوالے سے گفتگو

فواد چوہدری نے گفتگو کے دوران دبئی میں حوالہ کے ذریعے پیسے کے حوالے سے ایک شخص سے ہونے والی بات کا ذکر بھی کیا۔ ان کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک شخص نے انہیں بتایا کہ دبئی میں حوالہ 25 پیسے سستا ہوگیا ہے، یعنی بڑی مقدار میں پیسہ دبئی سے باہر جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہاں موجود لوگوں کے مطابق پیسہ دبئی میں جارہا نہیں بلکہ وہاں سے نکل رہا ہے، تاہم اس صورتحال کی وجہ سیاسی درجہ حرارت کا بہت زیادہ بلند ہونا ہے۔

نئے صوبوں پر اتفاقِ رائے، شناخت کا مسئلہ بنیادی رکاوٹ

فواد چوہدری نے کہا کہ امریکہ نے 13 ریاستوں سے آغاز کیا اور آج اس کی 50 ریاستیں ہیں۔ انہوں نے جاپان، کینیڈا، بھارت، افغانستان اور ترکی کی مثالیں دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پاکستان تبدیلی اور مختلف تجربات سے کیوں ڈرتا ہے۔

ان کے مطابق مسئلہ تجربات کا نہیں بلکہ طریقۂ کار کا ہے اور اصل مشکل یہی ہے کہ طریقہ کار کیسے طے کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عام آدمی کے دل میں شناخت کے حوالے سے خوف موجود ہے کہ کہیں اس کی شناخت متاثر نہ ہوجائے، تاہم شناخت کے تحفظ کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں۔

فواد چوہدری کے مطابق بنیادی اتفاقِ رائے اس بات پر موجود ہے کہ ڈیولوشن ہونی چاہیے، جبکہ انتظامی، مالی اور سیاسی اختیارات کی ضرورت پر بھی اتفاق ہے۔ اگر شناخت کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے تو اس کے حل کے کئی طریقے نکالے جاسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے بننے چاہئیں۔

معاملہ آگے بڑھے گا یا رک جائے گا؟

نئے صوبوں کے معاملے پر موجودہ صورتحال کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ رواں ہفتے انہیں کچھ مایوسی ہوئی ہے اور انہیں محسوس ہوا کہ معاملہ کچھ حد تک بیک فٹ پر چلا گیا ہے۔

ان کے مطابق بالخصوص محسن نقوی کے لاہور ایونٹ کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ معاملہ پیچھے گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب آصف زرداری آئیں گے، بلاول بھٹو اور آصف زرداری تقاریر کریں گے تو صورتحال مزید واضح ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور نواز شریف پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ مولانا فضل الرحمان نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ بات کیوں نہیں کی جارہی۔

فواد چوہدری کے مطابق آنے والے واقعات صورتحال کو آگے لے جاسکتے ہیں، تاہم اگر دوسری جانب سے کوئی جواب نہ آیا تو معاملہ دوبارہ پیچھے جاسکتا ہے۔

گفتگو کے اختتام پر بیرون ملک سیاسی قیادت کی موجودگی کے حوالے سے سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ اہم معاملات کے دوران رہنماؤں کا لندن چلے جانا اس تاثر کو جنم دیتا ہے کہ شاید ایک اور ’’لندن پلان‘‘ آرہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس لیے بھی ہے کہ بہت سے لوگوں کے گھر، بچے اور دیگر معاملات لندن میں ہیں، اس لیے وہ وہاں خود کو گھر جیسی صورتحال میں محسوس کرتے ہیں۔

Related Articles