لندن کی معروف باربیکن کنزرویٹری ایک روز کیلئے ایسے منفرد مرکز میں تبدیل ہوگئی جہاں پودوں کے شوقین افراد کو نایاب نباتات کی قلمیں اپنے گھروں میں لے جانے کا موقع ملا۔ اس انوکھی تقریب میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور اپنی پسند کے پودے حاصل کیے۔
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شہر کی بلند عمارتوں اور کنکریٹ سے بنی عمارتوں کے درمیان قائم باربیکن کنزرویٹری کو مرحوم ملکہ الزبتھ دوم نے ’جدید دنیا کے عجائبات میں سے ایک‘ قرار دیا تھا۔ یہ مقام اپنی منفرد نباتاتی دنیا کے باعث لندن کی خاص پہچان بھی سمجھا جاتا ہے۔
باربیکن کنزرویٹری میں 800 اقسام کے پودے
کنزرویٹری میں پودوں کی تقریباً 800 اقسام موجود ہیں، جن میں کئی انتہائی نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار اقسام بھی شامل ہیں۔ یہاں موجود پودے شہری ماحول میں ایک منفرد سبز دنیا کا احساس دلاتے ہیں۔
تاہم بڑے پیمانے پر تزئین و مرمت کے باعث کنزرویٹری کو جلد بند کیا جا رہا ہے۔ سال کے اختتام پر متوقع بندش سے پہلے انتظامیہ نے پودوں کے شوقین افراد کو اس خوبصورت مقام کی ایک یادگار اپنے گھروں تک لے جانے کا موقع فراہم کیا۔
500 قلمیں شوقین افراد میں تقسیم
تقریب کے دوران پودوں کے شوقین افراد قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔ انہیں کنزرویٹری میں موجود پودوں سے تیار کی گئی 500 قلموں میں سے ایک ایک حاصل کرنے کا موقع دیا گیا۔
یہ قلمیں ان لوگوں کیلئے خاص اہمیت رکھتی ہیں جو پودوں سے محبت کرتے ہیں اور باربیکن کنزرویٹری کی نایاب نباتاتی دنیا کا ایک حصہ اپنے گھر میں محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم پودا گود لینے کیلئے شرکا کیلئے کچھ مخصوص شرائط بھی مقرر کی گئی تھیں۔
جنگل کی یاد گھر لے جانے کا موقع
باربیکن کنزرویٹری کی یہ تقریب صرف پودے حاصل کرنے تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کا مقصد ایک منفرد شہری سبز مقام کی یاد لوگوں کے ساتھ منسلک کرنا بھی تھا ، مرمت کیلئے بندش سے قبل نایاب پودوں کی قلمیں تقسیم کرنے کا یہ اقدام شرکا کیلئے ایک یادگار تجربہ بن گیا۔
لندن کے مصروف شہری ماحول میں قائم باربیکن کنزرویٹری اپنی نایاب نباتات اور منفرد انداز کے باعث ایک خاص مقام رکھتی ہے ، تزئین و آرائش کیلئے اس کی متوقع بندش سے پہلے پودوں کی قلمیں شوقین افراد میں تقسیم کرنے کی تقریب نے لوگوں کو ایک منفرد یادگار تجربے سے آشنا کروادیا۔