وزیر اعلیٰ خبر پختونخوا سہیل آفریدی لاہور یاترا پر نکل گئے ہیں جبکہ ضلع کوہاٹ کے علاقے دربو کچ میں مبینہ غیر قانونی سونے کی کان پر قبضے کے تنازع میں دو گروپوں کے درمیان شدید فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور ایک راہگیر سمیت 3 زخمی ہو گئے۔
ضلع کوہاٹ میں قیمتی معدنیات کی غیر قانونی کھدائی جان لیوا دشمنی میں تبدیل ہو گئی ہے۔ تھانہ گمبٹ کی حدود میں واقع دربو کچ کے مقام پر مبینہ طور پر سونے کی ایک کان پر قبضے کے لیے 2 مقامی گروپوں میں تلخ کلامی کے بعد مسلح تصادم شروع ہو گیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے میدانِ جنگ کا روپ دھار لیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق، دونوں جانب سے جدید اسلحے سے کی جانے والی اندھا دھند فائرنگ سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور موقع پر موجود افراد میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس خونی تصادم کی زد میں آ کر 4 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ایک بے گناہ راہگیر سمیت 3 افراد شدید زخمی ہوئے۔
پولیس کا فوری ایکشن اور امدادی کارروائیاں
فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو ہنگامی بنیادوں پر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
محرکات اور تحقیقات کا آغاز
ابتدائی پولیس اطلاعات کے مطابق اس مسلح تصادم کی بنیادی وجہ سونے کی کان کنی کے حقوق پر دونوں گروپوں کے درمیان پایا جانے والا پرانا اختلاف ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے خول اور دیگر شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔ علاقے میں کشیدگی کے پیشِ نظر مزید کسی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا اور بالخصوص کوہاٹ کا خطہ قیمتی معدنیات سے مالا مال ہے۔ تاہم، سرکاری سرپرستی اور واضح قانونی ضوابط کی عدم عملداری کے باعث اکثر مقامی بااثر افراد اور مافیاز ان کانوں پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر لیتے ہیں۔
اس قسم کی غیر قانونی مائننگ نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچاتی ہے، بلکہ مقامی قبائل اور مسلح گروپوں کے درمیان اکثر خونی تصادم کا باعث بھی بنتی ہے، جس میں وسائل کی لوٹ مار کے دوران بے گناہ شہریوں کی جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ کوہاٹ میں پیش آنے والا یہ واقعہ مقامی سطح پر ریاستی رٹ اور انتظامی غفلت پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ جب کسی علاقے میں غیر قانونی کان کنی عروج پر ہو اور مقامی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہے، تو وہاں ایسے خونی تنازعات کا جنم لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
معدنی وسائل قومی اثاثہ ہیں، جنہیں چند مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ مائننگ کے شعبے کو مکمل طور پر دستاویزی شکل دے کر ریگولیٹ کرے اور غیر قانونی کان کنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق اور سخت ترین آپریشن کرے، تاکہ مستقبل میں قیمتی انسانی جانوں کے زیاں اور ریاستی وسائل کی چوری کو مستقل بنیادوں پر روکا جا سکے۔