کرپشن اور بدسلوکی کی روک تھام کا بڑا منصوبہ، تھانوں میں خفیہ کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ

کرپشن اور بدسلوکی کی روک تھام کا بڑا منصوبہ، تھانوں میں خفیہ کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ

ملک کے بڑے شہر کے تھانوں میں شفافیت اور احتساب کا نظام مضبوط بنانے کے لیے خفیہ آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ ڈیوائسز نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے پولیس اور سائلین کے درمیان گفتگو کا ریکارڈ بھی محفوظ کیا جا سکے گا۔

حکام کے مطابق یہ خفیہ ڈیوائسز تھانوں کے اہم اور حساس مقامات پر لگائی جائیں گی، جن میں ایس ایچ او کا کمرہ، محرر کی نشست، فرنٹ ڈیسک اور تھانے کے صحن کے علاوہ دیگر اہم پوائنٹس شامل ہیں۔ ان ڈیوائسز کے ذریعے تھانوں کے تمام بنیادی حصوں کی بلا تعطل نگرانی یقینی بنائی جائے گی۔

پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان گفتگو کا ریکارڈ

نئے انتظامی اقدام کے تحت پولیس اہلکاروں اور تھانے میں آنے والے سائلین کے درمیان ہونے والی گفتگو بھی باقاعدہ ریکارڈنگ کا حصہ بنے گی۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور کی مرکزی شاہراہوں پر نصب 2145 سیف سٹی کیمرے غیر فعال ہو گئے

خفیہ ریکارڈنگ کا بنیادی مقصد تھانوں میں پھیلی کرپشن کا خاتمہ، شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کا تدارک اور پولیس اہلکاروں کے رویوں کی مسلسل مانیٹرنگ کو ممکن بنانا ہے۔

شکایات کا ازالہ اور احتساب کا نظام

حکام کا کہنا ہے کہ حاصل شدہ ریکارڈنگز کو شہریوں کی جانب سے درج کرائی جانے والی شکایات کی تحقیق اور شفاف ازالے میں بنیادی ثبوت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

جدید ٹیکنالوجی کے اس استعمال سے تھانوں میں نگرانی اور احتساب کا عمل پہلے سے زیادہ مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے گا۔

ماضی میں سائلین کی جانب سے پولیس کے نامناسب رویے اور رشوت کے مطالبات کے حوالے سے متعدد شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم کسی ٹھوس اور مستند ثبوت کے نہ ہونے کے باعث ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی میں دشواری پیش آتی تھی۔

مزید پڑھیں:ہزارہ کے جنگلات: قانونی کٹائی کے باوجود غیر قانونی لکڑی اور سمگلنگ کیوں نہیں رک رہی؟

یہی وجہ ہے کہ اب ٹیکنالوجی کے ذریعے مانیٹرنگ کا یہ جدید ماڈل متعارف کروایا جا رہا ہے تاکہ تھانوں کے اندرونی ماحول میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔

ایک سیکیورٹی اور انتظامی امور کے ماہر تجزیہ کار کی نگاہ سے دیکھا جائے تو تھانوں میں خفیہ آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ ڈیوائسز کی تنصیب بلاشبہ پولیس اصلاحات کی سمت ایک مثبت اور تعمیری اقدام ہے۔

 اس سے نہ صرف شہریوں کا پولیسنگ کے نظام پر اعتماد بحال ہوگا بلکہ پولیس اہلکار بھی سائلین کے ساتھ گفتگو اور معاملات طے کرتے وقت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ رہیں گے۔

تاہم اس منصوبے کے مکمل نتائج حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ریکارڈ شدہ مواد کا کنٹرول ایک غیر جانبدار مانیٹرنگ سیل کے پاس ہو، تاکہ کسی بھی سطح پر ریکارڈنگ میں تبدیلی یا جان بوجھ کر ڈیٹا غائب کرنے کے خدشات کو ختم کیا جا سکے۔

Related Articles