پی ٹی آئی 27 ستمبر کو احتجاج کر سکے گی یا نہیں، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا

پی ٹی آئی 27 ستمبر کو احتجاج کر سکے گی یا نہیں، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاج کے خلاف دائر درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا عدالت کا فیصلہ اب بعد میں سنایا جائے گا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک، پراسیکیوٹر جنرل، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ اور آئی جی خیبرپختونخوا سمیت دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران عدالت کی خصوصی اجازت سے تحریک انصاف کے 2022 اور 2024 کے احتجاج سے متعلق ویڈیوز بھی کمرہ عدالت میں چلائی گئیں۔ حکومتی وکیل کی جانب سے ان واقعات کو آئندہ احتجاج کے ممکنہ سکیورٹی اور امن و امان کے خدشات سے جوڑتے ہوئے عدالت کے سامنے مختلف نکات پیش کیے گئے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2022 کے احتجاج کے دوران سرکاری مشینری استعمال ہوئی اور اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں کرین کے ذریعے ہٹائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک میں آگ لگائی گئی اور سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ 2024 میں بھی اسلام آباد میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے آئندہ احتجاج کے دو بنیادی مطالبات سامنے آتے ہیں، جن میں عمران خان کی رہائی اور حکومت گرانا شامل ہیں، اور ان کے بقول یہ مطالبات آئینی دائرے سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے تاہم احتجاج کیلئے قانونی طریقہ کار اور متعلقہ انتظامیہ سے اجازت ضروری ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ اگر لاکھوں افراد اسلام آباد کی طرف آتے ہیں تو انتظامیہ کیلئے صورتحال کو قابو میں رکھنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق دفعہ 144 سمیت انتظامی اقدامات کیے جا سکتے ہیں، تاہم ریاست اپنے ہی شہریوں پر گولیاں نہیں چلا سکتی، اس لیے کسی بڑے تصادم سے پہلے ہی ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما نے دوسری شادی کرلی،دولہا کون ہے؟

درخواست گزار کے وکیل نے بھی عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے بڑی تعداد میں لوگوں کو اسلام آباد لانے کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ وکیل کے مطابق اگر ایسے احتجاج کو، جسے وہ غیر آئینی مطالبات پر مبنی قرار دے رہے ہیں، نہ روکا گیا اور عدالت نے کوئی مناسب حکم جاری نہ کیا تو انتظامیہ کے پاس صورتحال سے نمٹنے کے محدود راستے رہ جائیں گے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے عدالت کے دائرۂ اختیار اور درخواست کی سماعت کے حوالے سے بھی اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ گزشتہ سماعت میں خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرۂ اختیار وفاقی دارالحکومت تک محدود ہے اور دیگر صوبوں کے حکام کو براہِ راست ہدایات دینے کا معاملہ قانونی طور پر اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے آئی جی خیبرپختونخوا کو روسٹرم پر طلب کیا اور ان سے جمع کرائے گئے بیان حلفی کے بارے میں دریافت کیا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر کوئی غیر قانونی یا غیر آئینی اجتماع ہوتا ہے تو کیا پولیس اسے روکنے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے کارروائی کرے گی۔

آئی جی خیبرپختونخوا نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ عدالت کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق بیان حلفی جمع کرایا جا چکا ہے اور اگر صوبے کی جانب سے کوئی غیر قانونی اقدام یا اسلام آباد کی طرف غیر قانونی پیش قدمی ہوئی تو اسے روکنے کیلئے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

بعد ازاں خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی۔ فریقین کے دلائل اور متعلقہ رپورٹس مکمل ہونے کے بعد لارجر بینچ نے 27 ستمبر کے احتجاج اور ممکنہ لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

عدالت کی جانب سے اس مرحلے پر احتجاج پر کوئی حتمی پابندی عائد کرنے کا حکم جاری نہیں کیا گیا بلکہ درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک بھر میں احتجاج جس میں اسلام آباد بھی شامل ہے، کا اعلان کر رکھا ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles