اے آئی سے بات کرتے ہوئے یہ 5 غلطیاں نہ کریں، ماہرین نے خبردار کردیا

اے آئی سے بات کرتے ہوئے یہ 5 غلطیاں نہ کریں، ماہرین نے خبردار کردیا

ماہرین نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اے آئی چیٹ بوٹس، خصوصاً چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی اور کلاؤڈ جیسے ٹولز استعمال کرتے ہوئے حساس اور ذاتی معلومات شیئر کرنے سے احتیاط کریں۔

ماہرین کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس سے بات چیت بظاہر ذاتی اور نجی محسوس ہوتی ہے، تاہم صارفین کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ان کے فراہم کردہ ڈیٹا کو متعلقہ پلیٹ فارم کی پالیسی کے تحت محفوظ یا پراسیس کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین نے 5 ایسی معلومات کی نشاندہی کی ہے جو چیٹ بوٹس میں درج کرنے سے گریز کرنا بہتر ہے۔

ذاتی شناختی معلومات

پورا نام، گھر کا پتا، فون نمبر، شناختی کارڈ یا پاسپورٹ نمبر جیسی حساس معلومات اے آئی چیٹ بوٹ میں درج نہ کریں۔ اگر ریزیومے یا کسی دوسری دستاویز کی ایڈیٹنگ کے لیے اے آئی کی مدد لی جائے تو پہلے شناخت ظاہر کرنے والی تفصیلات ہٹا دینی چاہییں۔

یہ بھی پڑھیں:گیس سلنڈر کی جدید ٹیکنالوجی، باقی گیس دیکھنا ہوگیا آسان

انتہائی نجی معلومات

ذاتی یا خاندانی معاملات سے متعلق ایسی تفصیلات بھی شیئر کرنے سے گریز کریں جنہیں آپ عام طور پر کسی غیر متعلقہ شخص کے ساتھ شیئر نہیں کرتے۔ اے آئی سے گفتگو کرتے وقت ضرورت سے زیادہ ذاتی معلومات فراہم کرنا مناسب نہیں۔

طبی معلومات

صحت سے متعلق حساس معلومات اے آئی چیٹ بوٹس کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے بھی احتیاط ضروری ہے۔ اگر کسی طبی مسئلے کو سمجھنے یا عمومی معلومات حاصل کرنے کے لیے اے آئی استعمال کی جائے تو ایسی معلومات شامل نہ کریں جن سے آپ کی شناخت ظاہر ہوسکتی ہو۔

خفیہ دفتری معلومات

کمپنی کی اندرونی رپورٹس، کلائنٹس کا ڈیٹا، سورس کوڈ، کاروباری راز یا دیگر خفیہ دستاویزات اے آئی چیٹ بوٹس پر اپ لوڈ نہیں کرنی چاہییں۔ ایسی معلومات کے افشا ہونے سے کمپنی اور صارف دونوں کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

مالیاتی معلومات

بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، کریڈٹ کارڈ نمبر، پے سلپ، ٹیکس ریٹرن اور دیگر مالیاتی ریکارڈ بھی چیٹ بوٹس کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں۔ حساس مالی معلومات کے غلط ہاتھوں میں جانے کی صورت میں فراڈ یا شناخت کی چوری کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فیس بک اور گوگل پر صارفین کا ذاتی ڈیٹا خاموشی سے چرانے کا بڑا الزام

اگر حساس معلومات پہلے ہی شیئر کردی ہوں؟

اگر کوئی صارف غلطی سے حساس معلومات اے آئی چیٹ بوٹ کے ساتھ شیئر کرچکا ہے تو ماہرین کے مطابق متعلقہ چیٹ اور دستیاب صورت میں چیٹ ہسٹری ڈیلیٹ کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ پلیٹ فارم کی پرائیویسی اور ڈیٹا کنٹرول سیٹنگز کا بھی جائزہ لینا بہتر ہے۔

تاہم صرف چیٹ ڈیلیٹ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کمپنی کے پاس موجود ہر کاپی یا ریکارڈ بھی اسی وقت ختم ہوگیا۔ ڈیٹا کتنے عرصے تک محفوظ رہتا ہے اور اسے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، اس کا انحصار متعلقہ پلیٹ فارم کی پالیسی اور صارف کی سیٹنگز پر ہوتا ہے۔

اے آئی چیٹ بوٹس روزمرہ زندگی میں بے حد مفید ہوسکتے ہیں، لیکن ان کا استعمال کرتے وقت ایک اصول ہمیشہ یاد رکھیں، جو معلومات آپ کسی اجنبی کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے، وہ اے آئی چیٹ میں بھی درج کرنے سے پہلے ضرور سوچیں۔

editor

Related Articles