پی ٹی آئی احتجاج سے چند روز قبل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق عدالت کا بڑا حکم

پی ٹی آئی احتجاج سے چند روز قبل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق عدالت کا بڑا حکم

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج اور اسلام آباد مارچ سے چند روز قبل خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کا بڑا حکم سامنے آگیا، عدالت نے ان کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کو کالعدم قرار دینے کی درخواست باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت، سہیل آفریدی اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیئے۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔ درخواست رکن قومی اسمبلی اور وکیل شیر افضل مروت نے دائر کی ہے جس میں سہیل آفریدی کے انتخاب کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی بحالی کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے درخواست گزار کے وکیل شیر افضل مروت سے استفسار کیا کہ کیس میں بنیادی آئینی نکتہ کیا ہے۔ شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا تھا بلکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر استعفیٰ دیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور کے استعفے میں بھی یہ درج تھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر مستعفی ہو رہے ہیں۔ شیر افضل مروت کے مطابق آئین کی منشا یہ ہے کہ کوئی عوامی عہدیدار رضاکارانہ طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو، اس لیے گنڈاپور کے استعفے کی آئینی حیثیت کا جائزہ ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو شاہراہیں اور عوامی مقامات بند کرنے سے روک دیا

شیر افضل مروت نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ فوری طور پر منظور نہیں کیا تھا، اس لیے اس پورے عمل کی قانونی حیثیت بھی سوال طلب ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران استعفے اور گورنر کی منظوری سے متعلق مختلف پہلوؤں پر سوالات کیے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے دوران سماعت اس امر کی نشاندہی کی کہ دو دن بعد ایک اور استعفیٰ بھی دیا گیا تھا۔ اس پر شیر افضل مروت نے کہا کہ ممکن ہے دوسرا استعفیٰ بھی منظور نہ ہوا ہو۔ عدالت آئندہ سماعت میں ان تمام دستاویزات اور آئینی نکات کا جائزہ لے گی۔

شیر افضل مروت نے اپنے دلائل میں نواز شریف کی پارٹی صدارت سے متعلق عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ یہ اصول طے کرچکی ہے کہ کوئی نااہل شخص پراکسی کے ذریعے ریاستی معاملات نہیں چلا سکتا۔ ان کے مطابق جب عمران خان نے علی امین گنڈاپور کے استعفے کی ہدایت دی تو وہ نااہل تھے، اس لیے اس ہدایت کی آئینی حیثیت بھی جانچنے کی ضرورت ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اگر علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ ہی آئینی طور پر مؤثر نہیں تھا تو ان کی جگہ سہیل آفریدی کا وزیراعلیٰ منتخب ہونا بھی قانونی سوال بن جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت سے سہیل آفریدی کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے اور علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیراعلیٰ بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواست خارج کرنے کے بجائے اسے باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرلیا۔ عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئینی نکات پر معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا۔

اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے اس مرحلے پر سہیل آفریدی کا انتخاب کالعدم قرار نہیں دیا اور نہ ہی انہیں وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے صرف درخواست کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کیا ہے جبکہ کیس کی مزید سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی گئی ہے۔

یہ عدالتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاج اور مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس سیاسی سرگرمی کے حوالے سے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کی آئینی حیثیت سے متعلق مقدمے نے سیاسی اہمیت بھی اختیار کرلی ہے۔

اب آئندہ سماعت میں علی امین گنڈاپور کے استعفے کی آئینی حیثیت، گورنر کی جانب سے اس کی منظوری، بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کی قانونی حیثیت اور اس کے بعد سہیل آفریدی کے انتخاب کے آئینی جواز جیسے سوالات مرکزی اہمیت اختیار کریں گے۔ عدالت کے سامنے فریقین کے جوابات آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ یہ مقدمہ سہیل آفریدی کی وزارت اعلیٰ کیلئے کس نوعیت کے قانونی اثرات پیدا کرسکتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles