ایران کے شہر اصفہان کے قریب تباہ ہونے والے امریکی لڑاکا طیارے کے پائلٹ اور ’ویپن آفیسر‘ کو ریسکیو کرنے کی ویڈیو 5 ماہ بعد جاری کر دی گئی ہے۔ امریکی ’اسپیشل آپریشنز فورسز‘ نے ایک پیچیدہ آپریشن کے دوران زخمی اہلکاروں کو ایرانی فورسز سے بچا کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے حال ہی میں ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں ایران کی حدود میں گر کر تباہ ہونے والے ایک لڑاکا طیارے کے عملے کو بچانے کی سنسنی خیز کارروائی دکھائی گئی ہے۔ یہ واقعہ آج سے 5 ماہ قبل اصفہان کے قریب پیش آیا تھا۔
’اسپیشل آپریشن‘ اور ہیلی کاپٹر لینڈنگ
جاری ہونے والی مبینہ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ’اسپیشل آپریشن کمانڈ‘ کے اہلکار ایک ہیلی کاپٹر سے اتر کر انتہائی تیزی سے کارروائی کر رہے ہیں۔
Dramatic video, obtained first by 60 Minutes, shows the rescue of two Air Force officers shot down over a mountainous desert region of Iran back in April. https://t.co/MMeYIaZvfupic.twitter.com/37AR1xc9bj
اس مشن کے دوران انہوں نے تباہ ہونے والے طیارے کے پائلٹ اور ’ویپن آفیسر‘ کو بحفاظت اپنے قبضے میں لیا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
پیراشوٹ کی خرابی اور خطرناک چوٹیں
امریکی میڈیا کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق جب طیارہ حادثے کا شکار ہوا تو عملے نے پیراشوٹ کے ذریعے کود کر جان بچانے کی کوشش کی۔ تاہم اس دوران پیراشوٹ میں تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی جس کے باعث ایک اہلکار کو زمین پر گرتے وقت شدید نوعیت کی چوٹیں آئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس حادثے کی وجہ سے امریکی اہلکار کی کمر، کندھا اور بازو ٹوٹ گئے تھے۔
بچاؤ کی طویل اور کٹھن جدوجہد
انتہائی تکلیف دہ حالت اور شدید زخمی ہونے کے باوجود، یہ امریکی اہلکار تقریباً 2 روز تک ایرانی فورسز سے چھپتا رہا اور مسلسل اپنی بقا کی جنگ لڑتا رہا۔ اس اہلکار نے ہمت نہ ہاری اور خطرے سے بچنے کے لیے تقریباً 7000 فٹ بلند اور دشوار گزار پہاڑی پر چڑھائی کی، جس کے بعد بالآخر امریکی ’اسپیشل آپریشنز فورسز‘ نے اس تک پہنچ کر اسے ریسکیو کر لیا۔
واضح رہے کہ ایران کی فضائی حدود میں غیر ملکی لڑاکا طیاروں کی موجودگی اور پھر ان کی تباہی ہمیشہ سے ایک حساس اور متنازع معاملہ رہا ہے۔
اصفہان کا علاقہ اپنی حساس فوجی اور جوہری تنصیبات کے باعث خاص اہمیت کا حامل ہے۔ 5 ماہ قبل پیش آنے والا یہ واقعہ خطے میں جاری اس شدید کشیدگی کا عکاس ہے جس میں فضائی گشت کے دوران طیاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
اس واقعے کے فوراً بعد ’ریسکیو‘ آپریشن کی کامیابی کو خفیہ رکھا گیا تھا تاکہ خطے میں مزید تناؤ پیدا نہ ہو، تاہم اب ویڈیو جاری ہونے سے اس ڈرامائی واقعے کی باقاعدہ تصدیق ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ ’ریسکیو‘ مشن امریکی فورسز کی اعلیٰ سطح کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کسی بھی مخالف ملک کی سرحد کے اندر، خصوصاً ایران جیسی مضبوط دفاعی صلاحیت رکھنے والی ریاست کے حساس ترین علاقے میں گھس کر 2 روز تک لاپتہ پائلٹ کو تلاش کرنا اور پھر اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحفاظت نکال لانا کوئی معمولی بات نہیں۔
اس واقعے سے دو بڑی باتیں واضح ہوتی ہیں’ ایک تو یہ کہ امریکی انٹیلی جنس اور آپریشنل ٹیموں کے درمیان رابطے کا نظام انتہائی مؤثر ہے، اور دوسرا یہ کہ پائلٹ کی بقا کی تربیت (سروائیول ٹریننگ) نے اسے 7000 فٹ کی بلندی پر شدید زخمی حالت میں بھی زندہ رہنے کے قابل بنایا۔
تاہم 5 ماہ بعد اس ویڈیو کو باقاعدہ پبلک کرنے کا مقصد بظاہر اپنی عسکری برتری کا پیغام دینا اور بین الاقوامی سطح پر نفسیاتی دباؤ برقرار رکھنا محسوس ہوتا ہے۔