ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور موبائل ایپس کی جانب سے صارفین کو مکمل معلومات فراہم کیے بغیر ان کا ذاتی ڈیٹا، لوکیشن اور براؤزنگ ہسٹری خاموشی سے جمع کرنے کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔
بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اس مبینہ خفیہ سرگرمی نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل پرائیویسی کے حوالے سے شدید تحفظات کو جنم دیا ہے۔
جدید ایپس سمارٹ فونز میں ڈاؤن لوڈ ہوتے ہی صارفین سے مائیکروفون، میڈیا فائلز اور لوکیشن تک وسیع رسائی مانگتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، زیادہ تر صارفین ان کے مضمرات کو سمجھے بغیر جلدی میں ’ایکسپٹ‘ یا ’الاؤ‘ کے آپشنز پر کلک کر دیتے ہیں، جس سے ان کمپنیوں کو صارفین کی نجی زندگی اور رابطوں میں مداخلت کا مکمل اختیار مل جاتا ہے۔
بڑی کمپنیوں کا کردار اور ڈیٹا کی ذخیرہ اندوزی
ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک، انسٹاگرام اور گوگل جیسی بڑی ایپس محض آن لائن سرگرمیوں تک محدود نہیں رہتیں۔
یہ ڈیوائس کی تفصیلات، ایپ کے استعمال کے رجحانات اور طویل المدتی لوکیشن کے ریکارڈ کو بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ گوگل سروسز کے حوالے سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سرچ ہسٹری اور لوکیشن کی مدد سے کسی بھی فرد کی طویل المدتی نقل و حرکت کا خاکہ باآسانی تیار کیا جا سکتا ہے۔
ڈیجیٹل دور کے آغاز سے ہی صارفین کا ذاتی ڈیٹا ایک انتہائی قیمتی تجارتی اثاثہ بن چکا ہے۔ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور سوشل میڈیا کی وسعت کے ساتھ کمپنیوں نے اشتہارات اور مارکیٹنگ کے لیے ڈیٹا پر انحصار بڑھا دیا ہے۔
اس سے قبل بھی دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں پر صارفین کا ڈیٹا تھرڈ پارٹی کمپنیوں کو فروخت کرنے اور پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
ڈیجیٹل سیکیورٹی کے ایک ماہر تجزیہ کار کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ صورتحال محض ڈیٹا جمع کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ الگورتھمز کے ذریعے انسانی ذہن سازی کا ایک پیچیدہ جال ہے۔
اس جدید ڈیٹا انیلیسس کی مدد سے ایپس کسی بھی شخص کے سیاسی، مذہبی اور ذاتی رجحانات کا باآسانی اندازہ لگا سکتی ہیں۔ یہ امر انتہائی تشویش ناک ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں صارف کا اپنی ہی معلومات پر کوئی کنٹرول نہیں رہا۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سمارٹ فون استعمال کرنے والوں کو اپنی پرائیویسی سیٹنگز پر فوری نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔