پنجاب ویگرینسی ترمیمی بل 2026 منظور، بچوں سے بھیک منگوانے پر والدین کو قید و جرمانے کی سزاؤں کا اعلان

پنجاب ویگرینسی ترمیمی بل 2026 منظور، بچوں سے بھیک منگوانے پر والدین کو قید و جرمانے کی سزاؤں کا اعلان

پنجاب میں جاب ویگرینسی 2026 کے ترمیمی بل کے ذریعے بچوں سے بھیک منگوانے کے خلاف سزاؤں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ قانون کے دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے والدین اور سرپرستوں کو بھی قابلِ سزا قرار دیا گیا ہے۔

حکومت نے بچوں کے استحصال کو روکنے کے لیے پنجاب ویگرینسی ایکٹ میں اہم ترمیمات شامل کی ہیں۔ نئے ترمیمی بل کے تحت بچوں کی عمر کی حد 14 سال سے بڑھا کر 16 سال کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:10 روپے کی بھیک سے نئی کرولا,پاکستانی بھکاری کا دعویٰ توجہ کا مرکز

اب اگر کوئی والدین یا سرپرست بچوں کو بھیک مانگنے پر مجبور کرتے پائے گئے تو وہ بھی براہِ راست قانون کے شکنچے میں آئیں گے۔ قانون کے مطابق بچے سے بھیک منگوانے پر 3 ماہ سے 3 سال تک قید اور 3,000 سے 300,000 روپے تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

بار بار کی خلاف ورزی اور بچوں کی منتقلی پر سخت اقدامات

نئے قانون میں اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی دہرانے والے والدین یا سرپرستوں کو کوئی رعایت نہ ملے۔ ایسے افراد کے لیے کم از کم 6 ماہ قید کی سزا لازمی قرار دی گئی ہے۔

 مزید برآں گداگری کے مقصد سے بچے کو کسی دوسرے شخص یا مافیا کے حوالے کرنا بھی سنگین اور قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

مرکزی ڈیٹا بیس اور کنٹرولر کے اختیارات

ادارتی اور انتظامی سطح پر اصلاحات لاتے ہوئے ڈی جی سوشل ویلفیئر پنجاب کو انسدادِ گداگری کا کنٹرولر مقرر کیا گیا ہے۔

نئے قانون کے تحت بھکاریوں، زیرِ حراست افراد اور بحالی پانے والوں کا ایک جامع اور مرکزی ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔ کنٹرولر کو تمام فلاحی و بحالی مراکز کی نگرانی، معائنہ کرنے اور متعلقہ ریکارڈ طلب کرنے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔

منظم مافیا کا خاتمہ اور بحالی کا منصوبہ

پیشہ ور اور منظم بھکاری مافیا کا خاتمہ کرنے کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے باہمی تعاون سے بڑے پیمانے پر مشترکہ کارروائیاں کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں:ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس نوٹس حاصل کرنے والے پاکستان کے کروڑ پتی ’بھکاری’ سے متعلق افسوسناک خبر

 قانون میں محض سزاؤں پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ بھکاریوں کی مستقل بحالی، انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی منصوبے بھی تیار کیے جائیں گے۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں معصوم بچوں کو گداگری کے دھندے میں دھکیلنے کا مسئلہ طویل عرصے سے درپیش ہے۔

سابقہ قوانین میں پائے جانے والے سقم کا فائدہ اٹھا کر منظم مافیا اور بعض اوقات خود والدین معصوم بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتے تھے۔

چونکہ پہلے بچوں کی قانونی عمر کی حد 14 سال تھی اور والدین کے خلاف کارروائی کی واضح گنجائش موجود نہیں تھی، اس لیے ویگرینسی ایکٹ میں ترمیم وقت کی اہم ضرورت بن چکی تھی۔

2026 کا یہ ترمیمی بل معصوم بچوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک انتہائی اہم اور انقلابی قدم ہے۔ بچوں کی عمر کی حد کو 16 سال تک بڑھانا اور والدین یا سرپرستوں کو قانون کے دائرے میں لانا اس گھناؤنے دھندے کی جڑ کاٹنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

تاہم اس قانون کی اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس پر کتنا غیر جانبدارانہ اور موثر عمل درآمد کراتی ہے۔

اگر ڈیٹا بیس کی تشکیل اور بحالی مراکز کے قیام پر سنجیدگی سے کام کیا گیا تو یہ اقدام نہ صرف گداگری کے خاتمے کا سبب بنے گا بلکہ ہزاروں بچوں کو تعلیم اور روشن مستقبل کی طرف لوٹانے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

Related Articles