دنیا میں قدرت کے ایسے بے شمار عجائبات موجود ہیں جنہیں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ انہی میں سے ایک برفانی علاقوں میں نظر آنے والی عجیب و غریب ساختیں ہیں، جنہیں ’پینیٹینٹیس‘ کہا جاتا ہے۔
دور سے دیکھنے پر یہ نوکیلے برفانی مینار ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے سفید لباس پہنے کوئی فوج قطاروں میں کھڑی ہو۔ یہ برفانی ساختیں عموماً انتہائی بلند پہاڑی علاقوں میں بنتی ہیں اور چلی اور ارجنٹائن کے درمیان پھیلے ہوئے اینڈیز کے پہاڑی سلسلے میں خاص طور پر دیکھی جاتی ہیں۔ پینیٹینٹیس عام طور پر سمندر کی سطح سے 4 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر تشکیل پاتے ہیں۔ ان کی جسامت چند انچ سے لے کر تقریباً 5 میٹر یعنی 16 فٹ تک ہوسکتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ برف آخر اتنی عجیب اور نوکیلی شکل اختیار کیسے کرتی ہے؟سائنسدانوں کے مطابق اس قدرتی مظہر کے پیچھے شدید سردی، انتہائی خشک ہوا اور تیز دھوپ کا منفرد امتزاج کارفرما ہوتا ہے۔
بلند پہاڑی علاقوں میں سورج کی تیز شعاعیں برف کی سطح پر پڑتی ہیں، لیکن وہاں موجود انتہائی خشک ماحول کی وجہ سے برف عام طریقے سے پگھل کر پانی میں تبدیل ہونے کے بجائے براہ راست ٹھوس حالت سے گیس میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ اس عمل کو سبلیمیشن کہا جاتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ برف کی سطح کے کچھ حصے تیزی سے ختم ہوتے جاتے ہیں، جبکہ نسبتاً گہرے حصے برقرار رہتے ہیں۔ اس قدرتی عمل کے نتیجے میں برف کی سطح پر نوکیلے اور بلند مینار بننے لگتے ہیں، جو دیکھنے میں کسی برفانی جنگل یا قطار میں کھڑی فوج جیسے دکھائی دیتے ہیں۔
’پینیٹینٹیس‘ نام بھی اپنی شکل کی وجہ سے دلچسپ ہے۔ یہ نام ہسپانوی زبان کے لفظ سے لیا گیا ہے، جس کا مفہوم ’توبہ کرنے والے‘ ہے۔ ان برفانی ساختوں کی شکل ان مذہبی زائرین سے مشابہت رکھتی ہے جو ماضی میں سفید اور نوکیلے ٹوپ والے مخصوص لباس پہن کر مذہبی جلوسوں میں شریک ہوتے تھے۔
تاریخی طور پر مشہور ماہر فطرت چارلس ڈارون نے بھی 1835 میں اینڈیز کے سفر کے دوران ان برفانی ساختوں کا مشاہدہ کیا اور انہیں دنیا کے سامنے متعارف کرایا۔ آج پینیٹینٹیس نہ صرف سائنسدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں بلکہ یہ اس بات کی بھی حیرت انگیز مثال ہیں کہ سورج، برف، ہوا اور انتہائی خشک ماحول مل کر زمین پر کس قدر منفرد قدرتی شکلیں تخلیق کرسکتے ہیں۔