عمران خان جیسی طبی سہولیات کا مطالبہ، وفاقی آئینی عدالت نے بڑا حکم دے دیا

عمران خان جیسی طبی سہولیات کا مطالبہ، وفاقی آئینی عدالت نے بڑا حکم دے دیا

وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو حاصل طبی سہولیات دیگر قیدیوں کو بھی فراہم کرنے سے متعلق درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو معاونت کیلئے نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جیل میں قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک کے اصول کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جبکہ نجی اسپتال میں علاج کے معاملے پر بھی اہم سوالات اٹھائے گئے۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی اپیلوں پر سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔ تینوں قیدیوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو خصوصی طبی سہولیات اور شفا انٹرنیشنل اسپتال سے علاج کی اجازت دی گئی ہے تو دیگر قیدیوں کو بھی اسی نوعیت کی سہولت ملنی چاہیے۔ درخواستوں میں آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے نجی اسپتال میں علاج کے معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ اگر قیدی کو علاج کی ضرورت ہے تو نجی اسپتال کیوں، پمز یا پولی کلینک میں علاج کیوں نہیں ہوسکتا؟ عدالت نے جیل مینول کے تحت علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے طریقہ کار سے متعلق بھی وضاحت طلب کی۔

جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ جیل مینول اس معاملے میں واضح ہے اور قیدیوں کے ساتھ غیر مساوی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام قیدیوں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے اور اگر جیل مینول پر عمل نہیں کرنا تو پھر اس کا فائدہ کیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ہر شخص کیلئے الگ طریقہ کار نہیں ہوسکتا۔

عدالت کی جانب سے یہ سوال اس پس منظر میں اہم ہے کہ اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے بانی پی ٹی آئی کو حاصل طبی اور دیگر سہولیات اپنے لیے بھی فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔ ان درخواستوں میں شفا انٹرنیشنل سے علاج کے علاوہ بیرون ملک موجود اہلخانہ سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کی سہولت فراہم کرنے کی بھی درخواست کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:نئے صوبوں کا معاملہ پارلیمنٹ میں آیا تو ن لیگ کیا مؤقف اپنائے گی؟

اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں قیدیوں کی اسی نوعیت کی درخواستیں مسترد کردی تھیں، جس کے بعد انہوں نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔ تینوں اپیلوں کو الگ الگ نمبر بھی الاٹ کیے گئے تھے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اب اٹارنی جنرل کو کیس میں معاونت کیلئے نوٹس جاری کردیا ہے، جبکہ تینوں قیدیوں کی اپیلوں میں متعلقہ دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

یہ معاملہ اس لحاظ سے بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ عدالت کے سامنے بنیادی سوال صرف ایک قیدی کو علاج کی سہولت دینے کا نہیں بلکہ جیل میں موجود دیگر قیدیوں کے ساتھ یکساں سلوک، جیل مینول کی پابندی اور طبی سہولیات کے یکساں معیار کا بھی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کی آئندہ سماعت میں اٹارنی جنرل کی جانب سے جیل مینول، قیدیوں کے علاج کے قانونی طریقہ کار اور خصوصی طبی سہولیات سے متعلق حکومتی مؤقف سامنے آنے کا امکان ہے۔ اس کے بعد عدالت یہ طے کرے گی کہ بانی پی ٹی آئی کو حاصل سہولیات کی نوعیت کیا ہے اور کیا قانون کے تحت دیگر قیدی بھی ایسی ہی سہولیات کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق عدالت آئینی معاملات کی تشریح اور آئینی حقوق کے نفاذ سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتی ہے، جبکہ موجودہ کیس بھی قیدیوں کے مساوی حقوق اور طبی سہولیات کے قانونی دائرہ کار سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles