مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات نے عالمی سطح پر ایک بار پھر تشویش پیدا کردی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے خطرات کو جوہری ہتھیاروں کے خطرات کے برابر سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 1300 سے زائد کمپیوٹر سائنس دانوں نے ایک کھلے خط کے ذریعے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی صلاحیتوں میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات بھی بڑھ رہے ہیں، اس لیے ٹیکنالوجی کو مزید طاقتور بنانے کے ساتھ اس کی حفاظت کے لیے بھی سخت اقدامات ضروری ہیں۔
کھلے خط میں حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے مؤثر حفاظتی ضابطے متعارف کرائے جائیں اور ایسے نظام تیار کیے جائیں جن سے مستقبل میں ممکنہ بڑے خطرات کو کم کیا جاسکے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اے آئی کے ممکنہ وجودی خطرات کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے، تاہم امریکی حکومت کی جانب سے مؤثر قانون سازی اور جامع ضابطہ بندی کے معاملے میں اب تک مطلوبہ رفتار نظر نہیں آئی۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات سے متعلق خدشات کو مخالف قوتیں بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق اے آئی کے میدان میں جو ملک سبقت حاصل کرے گا، وہ عالمی سطح پر اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گا۔
یوں مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں ایک طرف زیادہ طاقتور ٹیکنالوجی تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ترقی کی رفتار کے ساتھ حفاظتی اقدامات کو بھی ترجیح دی جائے۔ اے آئی سے متعلق یہ بحث اب صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی سلامتی، معیشت اور انسانی مستقبل کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھا رہی ہے۔