مہنگائی کا نیا وار ، آٹے کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ

مہنگائی کا نیا وار ، آٹے کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ

پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں یومیہ بنیادوں پر ہونے والے اضافے نے جہاں غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے وہیں آٹے سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کا تھیلا 400 روپے مہنگا ہوگیا، جس کے بعد اس کی قیمت 2800 روپے سے بڑھ کر 3200 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح 50 کلو آٹے کی بوری کی قیمت میں بھی 1000 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد 50 کلو آٹے کی بوری 7000 روپے سے بڑھ کر 8000 روپے تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں :عالمی غذائی مہنگائی کا خدشہ، پاکستان کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی، اسٹیٹ بینک نے خبردار کردیا

دکانداروں کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران فی کلو 20 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث شہریوں پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔

مہنگائی کا دباؤ، عوام کی مشکلات میں اضافہ

آٹا ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ براہ راست شہریوں کے ماہانہ اخراجات کو متاثر کرتا ہے ،  شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگی ہونے سے پہلے ہی گھریلو بجٹ شدید دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ ان کیلئے ایک اور بڑا بوجھ بن گیا ہے۔

دوسری جانب مہنگائی کے اثرات ہفتہ وار سستے بازاروں میں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں ، اسلام آباد میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شہری پریشان ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سستے بازار بھی اب مہنگائی سے محفوظ نہیں رہے۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف مل سکے۔

editor

Related Articles