جی ایچ کیو حملہ کیس، عمرایوب، شبلی فراز، زرتاج گل سمیت 18 ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم

جی ایچ کیو حملہ کیس، عمرایوب، شبلی فراز، زرتاج گل سمیت 18 ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم

انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) نے جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے  18 غیر حاضر اور اشتہاری ملزمان کی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ ملزمان کے مسلسل عدم پیشی اور پہلے سے جاری اشتہاری حیثیت برقرار رہنے کے بعد سنایا۔

یہ بھی پڑھیں:نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا جیل ٹرائل بحال ،کل سماعت

عدالتی حکم کے مطابق ضبط کی جانے والی جائیداد کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ عدالت نے متعلقہ ریونیو افسران کو فوری طور پر ضبطی کا عمل شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

فہرست میں اہم سیاسی شخصیات بھی شامل

عدالت کی جانب سے جن ملزمان کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ان میں پاکستان تحریک انصاف کے اہم مرکزی رہنما شامل ہیں جن میں عمر ایوب، شبلی فراز، کنول شوذب، شیخ راشد، زرتاج گل شامل ہیں، اس کے علاوہ دیگر نام بھی فہرست میں شامل ہیں، جن میں محمد احمد چھٹہ، رائے حسن نواز، مہر جاوید، رائے مرتضیٰ، اشرف سوہنا، چوہدری آصف، شکیل نیازی اور دیگر افراد شامل ہیں۔

یہ تمام ملزمان پہلے ہی عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں۔

ضامنوں کو بھی نوٹس جاری

عدالت نے ملزمان کے ضامنوں کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے کہ ملزمان کو پیش نہ کرنے کی وجہ بیان کی جائے، بصورت دیگر قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔

مزید پڑھیں:9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کے 2 ملزمان کے اشتہارات جاری

واضح رہے کہ جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس 9 مئی کے واقعات سے متعلق ایک اہم مقدمہ ہے، جس میں ریاستی تنصیبات پر حملے اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کے الزامات شامل ہیں۔

عدالت پہلے ہی متعدد مرتبہ ملزمان کو پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر چکی ہے، تاہم مسلسل غیر حاضری کے باعث اب جائیداد ضبطی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ضبطی کا عمل جلد شروع کر دیا جائے گا، جس کے بعد نیلامی کا مرحلہ مکمل ہونے پر رقم قومی خزانے میں جمع کرادی جائے گی۔

Related Articles