امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حملے نہ روکے گئے تو امریکہ انتہائی سخت جواب دے گا۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو بہت سخت نشانہ بنائے گا، تاہم انہوں نے ممکنہ اہداف یا آئندہ کارروائی کی نوعیت اور تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے مختصر بیان میں واضح کیا کہ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو امریکہ سخت ردعمل دے گا، تاہم اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب کویتی حکام نے بتایا ہے کہ ہفتہ کی صبح ملک میں متعدد ڈرون حملوں کی کوشش کی گئی۔ حکام کے مطابق کویت کے فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام ڈرونز کو تباہ کر دیا، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ادھر ایرانی حکام اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران کے خلاف مزید کارروائیاں کی گئیں تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک بھی حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ایرانی حکام کے اس انتباہ کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
اسی دوران برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے بتایا ہے کہ عمان کے ساحل اور آبنائے ہرمز کے قریب ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم میزائل یا گولہ نما شے نے نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم کسی ملک یا گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
حکام کے مطابق آئل ٹینکر پر حملے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملہ کس نے اور کس مقصد کے تحت کیا۔ فی الحال اس حوالے سے کسی ذمہ دار فریق کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا اہم ترین بحری راستہ تصور کیا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اہم بحری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی یا حملے کے واقعات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر براہِ راست اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں امریکی صدر کے سخت مؤقف، کویت میں ڈرون حملوں کی ناکام کوششوں، ایرانی انتباہ اور آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکر پر حملے کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔