وزیر دفاع خواجہ آصف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واقعی سسٹم کو مضبوط کرنا اور بنیادی تبدیلی لانی ہے تو اس کا آئینی اور حقیقی فورم پارلیمنٹ ہے، جہاں اس معاملے پر قانون سازی اور اصلاحات کی جا سکتی ہیں۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے محسن نقوی کی جانب سے سسٹم کی کسمپرسی سے متعلق اظہارِ خیال سنا اور ذاتی طور پر وہ ان کے خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی خود ایک پاور ہائوس ہیں، تاہم اگر نظام میں بنیادی تبدیلی مقصود ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کرنا ہوگا، جس کے وہ خود بھی رکن ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اس معاملے کو وفاقی کابینہ میں بھی زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے تاکہ ادارے مضبوط ہوں اور اصلاحات آئینی عمل کے ذریعے آگے بڑھیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ ملک کا نظام دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات کے تابع رہا ہے، جسے ان مفادات سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے تاکہ ریاستی ادارے مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں :موجودہ نظام تباہ ہوچکا، نئے انتظامی یونٹس یا صوبے ہی مسائل کا حل ہیں،محسن نقوی
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی پارلیمنٹ اور کابینہ کے اجلاسوں میں کبھی کبھار ہی شرکت کرتے ہیں، اس لیے پارلیمنٹ کو نظر انداز کرکے تاجر برادری کے سامنے اتنی اہم بات کرنا مطلوبہ اثر پیدا نہیں کرتا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ محسن نقوی گزشتہ ساڑھے تین سال سے نظام کے انتہائی طاقتور عہدوں پر فائز ہیں، اگر وہ چاہتے تو اس دوران اصلاحات کے لیے عملی پیشرفت کر سکتے تھے، تاہم “دیر آید درست آید،نقوی صاحب سسٹمُ کی تبدیلی کا آغاز نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں ، سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں صرف ہماری قابل احترام تاجر برادری ہی نہیں پوری قوم آپکے ساتھ ہے۔
محسن نقوی صاحب نے سسٹم کی کسمپرسی پہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں ذاتی طور پہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتا ھوں ۔ نقوی صاحب تو ماشا ءاللہ خود ایک پاور ھاؤس ھیں میں بھی بحثیت ایک سیاسی ورکر شدت سے محسوس کرتا ھوں سسٹم کا ارتقائ عمل یا evolution کا پراسیس دہائیوں سے گروہی و…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) August 1, 2026

