برمنگھم ٹیسٹ میں پاکستان کے لیے ڈیبیو کرنے والے فاسٹ بولر رضا اللہ نے اپنی غیر معمولی بیٹنگ سے سب کو حیران کر دیا۔ نچلے نمبروں پر بیٹنگ کے لیے آنے والے رضا اللہ نے انگلینڈ کے خلاف دوسری اننگز میں جارحانہ انداز اپناتے ہوئے صرف 63 گیندوں پر 81 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور پاکستان کو اننگز کی شکست سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
43 گیندوں پر نصف سنچری
رضا اللہ اس وقت بیٹنگ کے لیے آئے جب پاکستان مشکلات کا شکار تھا، تاہم انہوں نے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انگلش بولنگ کا بھرپور مقابلہ کیا۔ انہوں نے اپنی نصف سنچری صرف 43 گیندوں پر مکمل کی اور اس کے ساتھ ہی ٹیسٹ ڈیبیو پر تیز ترین نصف سنچری بنانے والے پاکستانی بیٹر بن گئے۔
اس سے قبل یہ اعزاز فہیم اشرف کے پاس تھا، جنہوں نے 2018 میں اپنے ٹیسٹ ڈیبیو پر 52 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے نصف سنچری مکمل کی تھی۔ رضا اللہ نے اس ریکارڈ کو نو گیندوں کے فرق سے بہتر کر دیا۔
نو چھکوں کی شاندار اننگز
رضا اللہ کی 81 رنز کی اننگز کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کے چھکے تھے۔ انہوں نے انگلینڈ کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 9 چھکے لگائے۔ اس کارکردگی کے ساتھ انہوں نے ٹیسٹ ڈیبیو پر ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا عالمی ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے بھی دوسری اننگز میں عمدہ مزاحمت کی اور 42 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں دو چھکے شامل تھے۔ یوں پاکستان کے نمبر 9 سے نمبر 11 تک آنے والے بیٹرز نے مجموعی طور پر 10 چھکے لگا کر ٹیسٹ کرکٹ میں ایک منفرد مثال قائم کی۔
فاسٹ بولرز کے خلاف بھی نیا ریکارڈ
رضا اللہ کی جارحانہ بیٹنگ کا ایک اور نمایاں پہلو فاسٹ بولنگ کے خلاف ان کا اعتماد تھا۔ انہوں نے ایک ہی اننگز میں فاسٹ بولرز کے خلاف 8 چھکے لگائے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق گزشتہ 15 برس کے دوران کسی پاکستانی بیٹر نے ایک ٹیسٹ اننگز میں فاسٹ بولرز کے خلاف اتنے چھکے نہیں لگائے تھے۔
اس کارکردگی نے رضا اللہ کو اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں نمایاں مقام دلا دیا ہے اور ان کی بیٹنگ نے پاکستان کے لیے ایک مشکل صورتحال کو کافی حد تک سنبھالنے میں مدد دی۔
ڈیبیو پر انگلینڈ کے خلاف سب سے زیادہ رنز
رضا اللہ نے برمنگھم ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی 11 رنز بنائے تھے۔ دوسری اننگز میں 81 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد ان کے مجموعی رنز 92 ہوگئے۔ اس طرح وہ ٹیسٹ ڈیبیو پر انگلینڈ کے خلاف سب سے زیادہ رنز بنانے والے پاکستانی بیٹر بھی بن گئے۔
ان کی کارکردگی خاص طور پر اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ بنیادی طور پر فاسٹ بولر کی حیثیت سے ٹیم کا حصہ بنے تھے، لیکن بیٹنگ میں انہوں نے توقعات سے کہیں بڑھ کر کارکردگی دکھائی۔
پاکستان نے انگلینڈ کو 130 رنز کا ہدف دے دیا
برمنگھم ٹیسٹ میں پاکستان نے دوسری اننگز میں 449 رنز بنائے۔ اس کے بعد انگلینڈ کو میچ جیتنے کے لیے 130 رنز کا ہدف ملا۔ پاکستان کی جانب سے نچلے نمبروں پر آنے والے بیٹرز کی مزاحمت نے ٹیم کو بڑی مشکل سے نکالا اور انگلینڈ کو نسبتاً آسان فتح حاصل کرنے سے روک دیا۔
تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں انگلینڈ پہلے ہی 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کر چکا ہے۔ ایسے میں برمنگھم ٹیسٹ میں رضا اللہ کی شاندار بیٹنگ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک مثبت پہلو بن کر سامنے آئی بلکہ نوجوان کھلاڑی کی صلاحیتوں نے بھی کرکٹ شائقین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
رضا اللہ کی 81 رنز کی جارحانہ اننگز، تیز ترین نصف سنچری اور ریکارڈ نو چھکوں نے ان کے ٹیسٹ کیریئر کے آغاز کو یادگار بنا دیا ہے۔ ڈیبیو میچ میں اس نوعیت کی کارکردگی ان کے لیے اعتماد کا باعث بن سکتی ہے اور مستقبل میں پاکستان کو ایک ایسے کھلاڑی کی صورت میں فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔