پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق قومی کپتان محمد رضوان اور اوپنر امام الحق کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے روک دیا ہے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے زیر تفتیش قومی کرکٹرز محمد رضوان اور امام الحق کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے روک دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں کرکٹرز پی سی بی کے فیصلے کے بعد پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون نہیں کھیل سکیں گے۔ قواعد کے مطابق دونوں کرکٹرز نے ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کو فٹنس ٹیسٹ نہیں دیے۔
محمد رضوان پریذیڈنٹ ٹرافی میں سوئی گیس ٹیم کے نائب کپتان مقرر تھے، جبکہ امام الحق کو او جی ڈی سی کا کپتان مقرر کیا گیا تھا۔
دوسری جانب امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف این سی سی آئی اے کی تحقیقات کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے اور ان کے بینک اکاؤنٹس کی جانچ جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دورہ برطانیہ کے دوران وطن واپس بلائے جانے والے قومی کرکٹ ٹیم کے اوپنر امام الحق اور سابق کپتان و وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے خلاف این سی سی آئی اے کی تحقیقات میں موبائل فونز کے فرانزک اور تکنیکی تجزیے کے ساتھ ساتھ بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات بھی شامل کر لی گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے کی تحقیقات میں مالی معاملات اور مشتبہ لین دین پر مرکزی توجہ ہے۔ انگلینڈ سیریز سے پہلے اور بعد کے مالی معاملات بھی جانچ کا حصہ ہیں، جبکہ دونوں کھلاڑیوں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی چیک کی جا رہی ہیں۔
متعلقہ عرصے میں دونوں کھلاڑیوں کے بینک اکاؤنٹس میں ہونے والی ٹرانزیکشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی مشتبہ ٹرانزیکشن سامنے آتی ہے تو رقم کہاں سے آئی اور کس کو گئی، اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق کسی کمپنی، شخص یا ادارے کی جانب سے ہونے والی مشتبہ ادائیگیوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
موبائل فونز سے ملنے والے ڈیٹا کو مالی لین دین سے متعلق تحقیقات سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جبکہ پیغامات، رابطوں سمیت دیگر ڈیجیٹل معلومات کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ تحقیقات کا ایک اہم پہلو انگلینڈ سیریز کے دوران مبینہ ڈریسنگ روم لیکس بھی ہے۔
واضح رہے کہ امام الحق اور محمد رضوان گزشتہ روز این سی سی آئی اے لاہور میں پیش ہوئے تھے۔ دونوں کھلاڑیوں نے تحریری جوابات دینے کے لیے مہلت طلب کی تھی۔
دوسری جانب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے تاحال کسی کھلاڑی پر الزام کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔