سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ترکیہ اور قطر کی اعلیٰ قیادت سے ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں، جن میں خطے کی موجودہ صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق فیصل بن فرحان نے ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے گفتگو کے دوران خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں جانب سے پیدا ہونے والے ممکنہ اثرات پر تفصیلی بات چیت کی۔
علاقائی کشیدگی کم کرنے پر اتفاق
سعودی اور ترک وزرائے خارجہ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
گفتگو کے دوران موجودہ حالات کے تناظر میں سفارتی رابطوں اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں مختلف واقعات کے باعث صورتحال مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
قطری قیادت سے بھی ٹیلی فونک رابطہ
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے قطر کے وزیراعظم سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ اس رابطے میں بھی خطے کی صورتحال اور حالیہ واقعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
قطری وزیراعظم نے گفتگو کے دوران ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ہونے والے حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے ایسے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علاقائی امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سفارتی رابطوں میں تیزی
سعودی وزیر خارجہ کے ترکیہ اور قطر کے ساتھ ہونے والے حالیہ رابطوں کو خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب پہلے بھی علاقائی کشیدگی کم کرنے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔
تازہ رابطوں میں مختلف علاقائی معاملات پر مشترکہ مؤقف اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات ہوئی۔ سعودی عرب، ترکیہ اور قطر خطے کی اہم ریاستیں ہیں اور ان کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے موجودہ صورتحال میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
حالیہ گفتگو کے بعد تینوں ممالک کی جانب سے علاقائی صورتحال پر نظر رکھنے اور امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ آئندہ دنوں میں خطے میں ہونے والی پیش رفت کے ساتھ ان سفارتی رابطوں میں مزید تیزی آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے ۔