ضلع شیخوپورہ کے علاقے مریدکے میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق چیئرمین بلدیہ شیخ شبیر احمد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس نے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے۔
پولیس کے مطابق شیخ شبیر احمد اپنی فلور فیکٹری سے کام مکمل کرنے کے بعد کار میں سوار ہو کر لاہور میں واقع اپنے گھر کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ وہ جی ٹی روڈ کے راستے مریدکے کے قریب پہنچے تو پہلے سے گھات لگائے بیٹھے نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنا لیا۔
کار سوار ملزمان نے فائرنگ کی
پولیس حکام کے مطابق حملہ آور ایک کار میں سوار تھے اور انہوں نے شیخ شبیر احمد کی گاڑی پر اچانک فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں شیخ شبیر احمد شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر پر مبینہ قاتلانہ حملہ، پیپلز پارٹی کا الیکشن کمیشن سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
واقعے کے فوراً بعد ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا۔
لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل
پولیس نے مقتول شیخ شبیر احمد کی لاش کو قانونی کارروائی کے لیے تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال مریدکے منتقل کردیا ہے۔ ہسپتال میں ضروری کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مقتول کے اہل خانہ اور سیاسی ساتھی بھی ہسپتال پہنچ گئے۔ شیخ شبیر احمد کے جاں بحق ہونے کی خبر سامنے آنے پر مقامی سیاسی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزمان کی تلاش
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ جائے وقوعہ اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کی جا رہی ہے تاکہ حملے میں ملوث افراد کی شناخت کی جا سکے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حملہ آوروں کے بارے میں مکمل معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد کی روشنی میں ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
قتل کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری
شیخ شبیر احمد پر حملے کے محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے۔ پولیس مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے بعد واقعے کی اصل وجہ اور حملے کے پس پردہ عوامل سامنے آنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں :تھر پارکر میں بچوں کی اموات نہ رک سکیں، مزید تین جاں بحق،8 ماہ میں تعداد 480 ہو گئی


