ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام کسی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور نہ ہی دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتیں اور ایرانی قوم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
ایرانی صدر نے یہ بیان بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور کاروباری شخصیات سے خطاب کے دوران دیا۔ مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں خطے کی موجودہ صورتحال اور ایران کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔
دباؤ قبول نہیں کریں گے، مسعود پزشکیان
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کو دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم ایرانی عوام اس طرح کا دباؤ قبول نہیں کریں گے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران کو مزید دبانے کی کوشش کی گئی تو ملک اپنی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایرانی عوام مشکل حالات کے باوجود اپنے ملک کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
امریکا اور اسرائیل پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام
ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں امریکا اور اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ہی واقعے میں اسکول کے 168 بچے جاں بحق ہوئے اور سوال اٹھایا کہ ایسے اقدامات کے بعد ایران کو دہشت گرد قرار دینے کا جواز کیسے پیش کیا جا سکتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا اور انسانی جانوں کا نقصان ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل سے سوال کیا کہ اگر جنگ لڑنی ہے تو فوجی اہداف تک محدود کیوں نہیں رہا جاتا۔
اسکولوں اور ہسپتالوں پر حملوں پر سوال
ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل پر سائنسدانوں، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران عام شہریوں اور بنیادی سہولیات کو نشانہ بنانے کے بجائے صرف فوجی اہلکاروں اور فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کے بنیادی ڈھانچے، لوگوں کے روزگار اور ذرائع معاش کو نشانہ بنانے سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مسعود پزشکیان نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ ایرانی عوام دباؤ کے نتیجے میں ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔
بھارت میں برکس اجلاس میں شرکت
ایرانی صدر مسعود پزشکیان جمعے کے روز بھارت پہنچے تھے جہاں وہ برکس ممالک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ان کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں جاری تنازع عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔