لاہور ہائیکورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔
درخواست میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ مسلسل اضافے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صرف ایک ہفتے کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 30 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 25 روپے سے زائد فی لیٹر اضافہ ہوا جس سے عوام پر مہنگائی کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔ حالیہ سرکاری نرخوں کے مطابق 12 ستمبر سے پیٹرول 375.82 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 403.32 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔
درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں، اس لیے حکومت محض عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو اضافے کا جواز قرار نہیں دے سکتی۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت کا مکمل اور شفاف ’’پرائس بلڈ اپ‘‘ عدالت کے سامنے پیش کرے۔
درخواست گزار کے مطابق عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ پیٹرول کی حتمی قیمت کس فارمولے کے تحت مقرر کی جاتی ہے اور اس میں عالمی قیمت، درآمدی اخراجات، ٹیکسز، لیویز، اوگرا سے متعلق اخراجات اور دیگر مدات کا کتنا حصہ شامل ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت سے حکومت سے مکمل قیمت سازی کا فارمولا اور متعلقہ ریکارڈ طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافے کے براہِ راست اثرات ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ بالخصوص ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مال بردار گاڑیوں، بسوں، ٹریکٹرز اور دیگر تجارتی شعبوں کے اخراجات بڑھا سکتا ہے، جس کا بالواسطہ بوجھ عام صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے پہلے 12 دنوں میں پیٹرول کی قیمت 342.79 روپے سے بڑھ کر 375.82 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، یعنی اس عرصے میں 33.03 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔ اسی مدت میں ڈیزل 370.41 روپے سے بڑھ کر 403.32 روپے فی لیٹر ہو گیا، جو 32.91 روپے کا اضافہ ہے۔
حالیہ دنوں میں حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ بنیادوں پر ردوبدل کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ 12 ستمبر کو بھی پیٹرول میں 5.02 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 5.28 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وفاقی حکومت اور اوگرا سے پیٹرولیم مصنوعات کا مکمل ’’پرائس بلڈ اپ‘‘ طلب کیا جائے، قیمتوں میں حالیہ اضافے کی قانونی اور مالی بنیاد واضح کرنے کا حکم دیا جائے اور عوام کو پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔
عدالت کی جانب سے فریقین کو نوٹس جاری ہونے کے بعد اب وفاقی حکومت اور اوگرا کو قیمتوں میں اضافے کے جواز، قیمت مقرر کرنے کے طریقہ کار اور درخواست گزار کے اعتراضات پر اپنا مؤقف پیش کرنا ہوگا۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت میں یہ معاملہ مزید واضح ہونے کی توقع ہے کہ حالیہ اضافوں میں عالمی منڈی کے اثرات کے ساتھ ساتھ ملکی ٹیکسز، لیویز اور دیگر قیمت سازی کے اجزا کا کیا کردار ہے۔
یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیٹرول 375.82 روپے جبکہ ڈیزل 403.32 روپے فی لیٹر کی سطح پر موجود ہے، اور عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے مناسب احکامات جاری کیے جائیں۔
