پی ٹی آئی کے گرد گھیرا تنگ،15 اراکین اسمبلی کے وارنٹ گرفتاری جاری

پی ٹی آئی کے گرد گھیرا تنگ،15 اراکین اسمبلی کے وارنٹ گرفتاری جاری

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے 3 ارکان قومی اسمبلی اور 12 ارکان خیبرپختونخوا اسمبلی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔ عدالت نے یہ وارنٹ پولیس کی استدعا پر جاری کیے۔ تازہ رپورٹس بھی 15 پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے وارنٹ جاری ہونے کی تصدیق کرتی ہیں۔

انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے تھانہ کوہسار میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے متعلقہ ارکان اسمبلی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

وارنٹ گرفتاری جاری ہونے والے ارکان قومی اسمبلی میں شاہ احد، شیر علی ارباب اور زبیر وزیر شامل ہیں۔ تینوں پی ٹی آئی سے وابستہ قومی اسمبلی کے ارکان ہیں اور ان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں قانونی کارروائی جاری ہے۔

اسی مقدمے میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے 12 ارکان کے خلاف بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں بابر سلیم سواتی، محمد عثمان، آصف محسود اور عجب گل سمیت دیگر پی ٹی آئی ارکان شامل ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں تمام 12 ارکان کے نام فراہم نہیں کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق تھانہ کوہسار میں درج مقدمے کی تفتیش اور قانونی کارروائی کے سلسلے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری ضروری ہے، جس پر عدالت نے پولیس کی استدعا پر وارنٹ جاری کردیئے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج سے چند روز قبل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق عدالت کا بڑا حکم

26 نومبر 2024 کو پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاج کیا گیا تھا، جس کے دوران شہر میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی اور احتجاج کے شرکا اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے تھے۔ اس احتجاج کے حوالے سے متعدد مقدمات مختلف تھانوں میں درج کیے گئے تھے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمات میں عدالتی کارروائیاں گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف وارنٹ گرفتاری سے متعلق کارروائی کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان مقدمات میں قانونی عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

تازہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور ممکنہ لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اسی احتجاج کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست زیر سماعت رہی، جس پر عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ جاری کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور سرکاری عہدے داروں کے لیے عوامی شاہراہیں بند کرنے کے اختیار سے متعلق اہم اصول وضع کیے ہیں۔

26 نومبر احتجاج کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد اب ان ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمے کی کارروائی مزید اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ تاہم وارنٹ جاری ہونا عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں بلکہ مقدمے میں ملزمان کی گرفتاری اور آئندہ قانونی کارروائی سے متعلق عدالتی حکم ہے۔

پولیس اب عدالت کے جاری کردہ وارنٹس کی روشنی میں قانونی کارروائی کرے گی، جبکہ متعلقہ ارکان کے پاس قانون کے مطابق عدالت سے رجوع اور دیگر قانونی چارہ جوئی کے راستے موجود ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles