’چیٹ جی پی ٹی ‘ استعمال کرنے والوں کی موجیں، کمپنی کا بڑا اعلان

’چیٹ جی پی ٹی ‘ استعمال کرنے والوں کی موجیں، کمپنی کا بڑا اعلان

مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی کمپنی اوپن اے آئی نے اپنے ’جی پی ٹی 5.6‘ کے 2  ماڈلز کی اے پی آئی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کردیا ہے، سب سے سستے ماڈل کی قیمت میں 80 فیصد جبکہ درمیانے درجے کے ماڈل میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق بہتر انفراسٹرکچر، مؤثر سسٹمز اور ہارڈویئر آپٹیمائزیشن نے یہ ممکن بنایا ہے۔

قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان

میڈیا رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی ’اوپن اے آئی‘ نے اپنے جدید ’جی پی ٹی 5.6‘ ماڈلز کی اے پی آئی قیمتوں میں نمایاں کمی کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سام سنگ کا مصنوعی ذہانت کی جانب بڑا قدم

 یہ تبدیلی 30 جولائی سے نافذ العمل ہوچکی ہے، جبکہ ’جی پی ٹی 5.6‘ ماڈلز کو عمومی دستیابی کے لیے 9 جولائی کو متعارف کرایا گیا تھا۔ اس طرح لانچ کے صرف 3 ہفتے بعد ہی صارفین اور ڈویلپرز کو بڑی قیمت میں کمی کا فائدہ ملنا شروع ہوگیا۔

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ کمی ماڈلز کی کارکردگی، انفارنس سسٹمز، ہارڈویئر کے مؤثر استعمال، پروڈکشن سافٹ ویئر اور کانٹیکسٹ مینجمنٹ میں بہتری کے باعث ممکن ہوئی۔

کن ماڈلز کی قیمتیں کم ہوئیں؟

‘جی پی ٹی 5.6’ کے 3 اہم ماڈلز میں سے 2 کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے، جبکہ سب سے طاقتور ماڈل کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے۔

نئی قیمتوں کی تفصیلات

قیمتوں میں کمی کا سب سے بڑا فائدہ جی پی ٹی 5.6 لونا کو ہوا ہے جو اس فیملی کا سب سے تیز ترین اور سستا ماڈل ہے۔

جی پی ٹی 5.6 لونا

اس ماڈل کی قیمت میں 80 فیصد کمی کی گئی ہے۔ اب ان پٹ کی قیمت 1 ڈالر سے کم ہو کر 0.20 ڈالر فی ملین ٹوکنز رہ گئی ہے جبکہ آؤٹ پٹ کی قیمت 6 ڈالر سے کم ہو کر 1.20 ڈالر فی ملین ٹوکنز کر دی گئی ہے۔

جی پی ٹی 5.6 ٹیرا

 اس ماڈل کی قیمت میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے۔ اب ان پٹ کے لیے 2 ڈالر اور آؤٹ پٹ کے لیے 12 ڈالر فی ملین ٹوکنز ادا کرنے ہوں گے جو کہ پہلے بالترتیب 2.50 ڈالر اور 15 ڈالر تھے۔

جی پی ٹی 5.6 سول

 اس ماڈل کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے، اس کی ان پٹ قیمت 5 ڈالر اور آؤٹ پٹ قیمت 30 ڈالر فی ملین ٹوکنز پر برقرار ہے۔

تیز رفتار موڈ بھی متعارف

کمپنی نے ‘جی پی ٹی 5.6 سول’ کے لیے ایک نیا ‘فاسٹ موڈ’ بھی متعارف کرایا ہے۔ اس نئے فیچر کے تحت پروسیسنگ رفتار عام موڈ کے مقابلے میں 2.5 گنا تک بڑھ سکتی ہے۔

یہ سابقہ ‘پرائیوریٹی پروسیسنگ’ کی جگہ لے گا۔ فاسٹ موڈ کی قیمت عام اے پی آئی نرخ سے 2 گنا ہوگی۔ رفتار میں اضافہ ہوگا، تاہم ماڈل کی ذہانت یا معیار میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

صارفین پر کیا اثر پڑے گا؟

کمپنی کے مطابق ’چیٹ جی پی ٹی‘ اور ’کوڈیکس‘ کی سبسکرپشن فیس یا استعمال کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں:مہنگی قیمت، شدید تنقید، پھر بھی چیٹ جی پی ٹی باسکٹ بال فوراً فروخت

البتہ ’ٹیرا‘ اور ’لونا‘ ماڈلز استعمال کرنے والے ادارہ جاتی صارفین اور ڈویلپرز کے لیے کریڈٹس کی کھپت کم ہوجائے گی، جس سے ایک ہی بجٹ میں زیادہ کام کرنا ممکن ہوگا۔

مصنوعی ذہانت کی صنعت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ماڈلز کی رفتار، استعداد اور لاگت میں مسلسل بہتری دیکھی جارہی ہے۔

مختلف کمپنیاں نہ صرف زیادہ ذہین ماڈلز متعارف کرا رہی ہیں بلکہ انہیں چلانے کی لاگت بھی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروبار، سافٹ ویئر ڈویلپرز اور ادارے ان خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ماہرین کے مطابق ماڈلز کی تربیت اور انفارنس سسٹمز میں بہتری کے باعث فی ٹوکن لاگت مسلسل کم ہورہی ہے، جس کا براہ راست فائدہ صارفین کو کم قیمتوں کی صورت میں ملتا ہے۔

’اوپن اے آئی‘ کی جانب سے لانچ کے صرف 3 ہفتے بعد قیمتوں میں اتنی بڑی کمی اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ میں مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کم قیمتیں ڈویلپرز، اسٹارٹ اپس اور کاروباری اداروں کو جدید اے آئی ماڈلز اپنانے کی ترغیب دیں گی۔

مزید پڑھیں:جیمنائی اور چیٹ جی پی ٹی کو ٹکر، واٹس ایپ کا صارفین کے لیے انتہائی کارآمد فیچر متعارف

80  فیصد تک کمی خاص طور پر اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمپنی اپنے سستے ماڈل کو بڑے پیمانے پر استعمال میں لانا چاہتی ہے۔ اس سے اے آئی ایپلی کیشنز، چیٹ بوٹس، کسٹمر سروس، پروگرامنگ معاونت اور خودکار نظاموں کی تیاری پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کم لاگت پر ممکن ہوسکے گی۔

دوسری جانب سب سے طاقتور ماڈل کی قیمت برقرار رکھنا اس حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کے تحت اعلیٰ کارکردگی کے متلاشی ادارے بدستور پریمیم قیمت ادا کریں گے، جبکہ عام استعمال کے لیے کم لاگت والے متبادل فراہم کیے جائیں گے۔

Related Articles