امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کا ایک ناکارہ راکٹ بدھ کو چاند سے ٹکرانے والا ہے، جس کے نتیجے میں چاند کی سطح پر ایک نیا گڑھا بننے اور گرد و غبار کا بڑا بادل خلا میں بلند ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق راکٹ کی ٹکر سے پیدا ہونے والی توانائی 3 ٹن سے زائد ٹی این ٹی کے دھماکے کے برابر ہو سکتی ہے، تاہم اس واقعے سے زمین یا انسانوں کو کسی قسم کا فوری خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق یہ راکٹ ایک سال سے زائد عرصے سے خلا میں گردش کر رہا تھا۔ اسے اس سے قبل دو قمری لینڈرز کو خلا میں بھیجنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کا بالائی حصہ بے قابو ہو کر خلا میں سفر کرتا رہا۔
خلائی نگرانی کے ماہر بل گرے کے مطابق راکٹ کا بالائی حصہ تقریباً 8 ہزار 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کے آئن اسٹائن کریٹر کے قریب ٹکرائے گا، جو آواز کی رفتار سے تقریباً سات گنا زیادہ ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تصادم کے نتیجے میں چاند کی سطح پر نیا گڑھا بنے گا، جبکہ چٹانوں اور گرد و غبار کا بڑا بادل کئی میل بلند خلا میں پھیل جائے گا، جس کا مشاہدہ سائنسی تحقیق کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ واقعہ کسی ہنگامی خطرے کا باعث نہیں، لیکن یہ زمین کے مدار اور گہرے خلا میں بڑھتے ہوئے خلائی ملبے کے مسئلے کی یاد دہانی ضرور کراتا ہے، جو مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔