ٹرمپ کا غزہ سے متعلق بڑا اعلان، حماس کے غیر مسلح ہونے پر معاہدہ طے پاگیا

ٹرمپ کا غزہ سے متعلق بڑا اعلان، حماس کے غیر مسلح ہونے پر معاہدہ طے پاگیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ بورڈ آف پیس نے غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے مکمل غیر مسلح ہونے کے حوالے سے معاہدہ کرلیا ہے۔ یہ پیش رفت غزہ میں پائیدار امن اور سکیورٹی کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل طے شدہ مراحل کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ جیسے ہی غیر مسلح ہونے کا عمل مکمل ہوگا اسرائیلی فوجیں پیچھے ہٹ جائیں گی۔

 یہ بھی پڑھیں :غزہ میں انسانیت سوز مظالم: امریکی ;تھرموبیرک بموں سے 3 ہزار فلسطینیوں کے بخارات بن کر تحلیل ہونے کا انکشاف

امریکی صدر کے مطابق معاہدے پر عملدرآمد کے بعد غزہ میں ایک نئی فلسطینی حکومت قائم کی جائے گی جو علاقے کے عوام کی خدمت کرے گی۔ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کو مستقبل میں اسرائیل پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور اسرائیل کو وہ سکیورٹی فراہم کی جائے گی جس کا وہ حقدار ہے۔

منصوبے کے تحت غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کو دی جائے گی۔ اس فورس کو بین الاقوامی استحکام فورس کی معاونت حاصل ہوگی۔ بین الاقوامی فورس اور فلسطینی پولیس مل کر غزہ کے شہریوں اور خطے کے پڑوسی ممالک کے لیے سکیورٹی یقینی بنائیں گے۔

 یہ بھی پڑھیں :غزہ بورڈ آف پیس اجلاس کے اختتام پر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کو گلے لگا لیا،غیر رسمی گفتگو بھی کی

 امریکی صدر نے معاہدے کے لیے ثالثی کرنے والے ممالک مصر۔ قطر اور ترکیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنی ٹیم کی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں شامل افراد کی مسلسل محنت کے نتیجے میں یہ پیش رفت ممکن ہوئی۔

ٹرمپ کے مطابق معاہدے پر عملدرآمد ایک ہی مرحلے میں نہیں ہوگا بلکہ اسے احتیاط سے طے کیے گئے مختلف مراحل کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔دوسری جانب اسرائیل نے موجودہ مجوزہ شرائط پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق معاہدے کے عملی نفاذ اور حتمی منظوری کے مراحل ابھی باقی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فضائی حملوں کو ایک روز کے لیے روکنے کا حکم دے دیا

رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بنیادی توجہ غزہ کی مکمل غیر مسلح اور مستقبل میں علاقے سے اسرائیل کے خلاف کسی بھی مسلح کارروائی کے امکانات ختم کرنے پر ہے۔ اسی معاملے پر مذاکرات میں پہلے بھی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔

تازہ پیش رفت کے باوجود یہ واضح نہیں کہ حماس اور دیگر متعلقہ فریق معاہدے کی تمام شرائط کو کس حد تک قبول کرتے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ کے اعلان کے بعد اب اصل توجہ معاہدے کی حتمی منظوری اور اس پر عملی پیش رفت پر مرکوز ہوگئی ہے۔

editor

Related Articles